سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. بَابُ: إِبَاحَةِ فَسْخِ الْحَجِّ بِعُمْرَةٍ لِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْىَ
باب: جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2805
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ، فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ، قَالَ:" أَوَ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ؟" قُلْتُ: لَا , قَالَ:" فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانُ كَذَا وَكَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا (جس کی وجہ سے) میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، جب محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ حج و عمرہ دونوں کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی، آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے ان راتوں میں جن میں ہم مکہ آئے تھے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ، وہاں عمرے کا تلبیہ پکارو، (اور طواف وغیرہ کر کے) واپس آ کر فلاں فلاں جگہ ہم سے ملو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2805]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں مدینہ منورہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا (اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے، حکم دیا کہ وہ حلال ہو جائیں۔ تو جو شخص قربانی ساتھ نہیں لائے تھے، وہ حلال ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائی تھیں، وہ بھی حلال ہو گئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے تو حیض آنے لگا تھا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی تھی۔ جب محصب والی رات (چودھویں) ہوئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ حج اور عمرہ کر کے (اپنے گھروں کو) جائیں گے اور میں صرف حج کر کے جاؤں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ہم مکہ مکرمہ آئے تھے تو تم نے ان راتوں میں طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی (حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تنعیم کے مقام پر جاؤ اور عمرے کا احرام باندھو، پھر (عمرے کی ادائیگی کے بعد) ہمیں فلاں مقام پر آ ملنا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2719 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ،" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، تو جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے ساتھ ہدی تھی انہیں اپنے احرام پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2806]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حجۃ الوداع میں) نکلے تو ہمارا ارادہ حج ہی کا تھا۔ جب ہم مکہ مکرمہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہے، وہ (طواف کرنے کے بعد) اپنے احرام پر قائم رہے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ (عمرہ کرنے کے بعد) حلال ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2651 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2807
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ؟" قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" هِيَ لِلْأَبَدِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ”احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو“، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہو جائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہو چکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو گیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہو گئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا“۔ (اسی دوران) علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟“ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو“۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے خالص حج کا احرام باندھا تھا۔ کسی اور چیز کی نیت نہیں تھی، صرف حج کی نیت تھی۔ ہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو مکہ مکرمہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ”اس احرام کو عمرہ بنا لو اور (عمرہ کر کے) حلال ہو جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں: جب ہمارے اور یومِ عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن کا فاصلہ رہ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں، ہم منیٰ کو جائیں گے تو گویا ہمارے اعضائے تناسل منی بہا رہے ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”جو بات تم نے کہی ہے، وہ مجھے پہنچ گئی ہے۔ یقیناً میں تم سب سے بڑھ کر نیک اور پرہیزگار ہوں اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں خود حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے اس بات کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا بعد میں پتہ چلا تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے کیا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے کہا: جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم (یومِ نحر کو) جانور ذبح کرنا اور تم محرم رہو جس طرح تم ہو۔“ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں: کیا اس ہمارے عمرے کی اجازت صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 23 (1787)، (تحفة الأشراف: 4259)، مسند احمد (3/317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں، کیا ہمارا یہ عمرہ (یعنی ایام حج کے دوران میں) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج40 (2977)، (تحفة الأشراف: 3815)، مسند احمد (4/175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2809
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ: سُرَاقَةُ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ:" بَلْ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا، پھر ہم نے کہا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2808 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2810
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لَنَا خَاصَّةً".
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حج کو فسخ کر کے عمرہ بنانا صرف ہمارے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ صرف ہمارے لیے ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج25 (1808)، سنن ابن ماجہ/الحج42 (2984)، (تحفة الأشراف: 2027)، مسند احمد (3/469)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف منکر) (اس کے راوی ’’حارث‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث دیگر صحیح حدیثوں کے مخالف ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حج کو عمرہ کے ذریعہ فسخ کرنا خاص ہے، نہ کہ تمتع کیونکہ اس کا حکم عام ہے جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا اور جو لوگ فسخ کو بھی عام کہتے ہیں وہ اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی حارث ہیں جو ضعیف ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2811
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ , وَعَيَّاشٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ، قَالَ:" كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً".
ابوذر رضی الله عنہ سے حج کے متعہ کے سلسلہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے رخصت تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2811]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے تمتع کے بارے میں منقول ہے کہ یہ صرف ہمارے لیے رخصت تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 23 (1224)، سنن ابن ماجہ/الحج 42 (2985)، (تحفة الأشراف: 11995) (صحیح) (سند کے اعتبار سے یہ روایت صحیح ہے، مگر یہ ابو ذر رضی الله عنہ کی اپنی غلط فہمی ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف مخالف للأحاديث المتقدمة
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2812
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَارِثِ بْنَ أَبِي حَنِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ:" لَيْسَتْ لَكُمْ وَلَسْتُمْ مِنْهَا فِي شَيْءٍ، إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوذر رضی الله عنہ حج کے متعہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے، اور نہ تمہارا اس سے کوئی واسطہ ہے، یہ رخصت صرف ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2812]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے «تَمَتُّع» کے بارے میں فرمایا کہ یہ تمہارے لیے نہیں، نہ تمہارا اس سے کوئی تعلق ہے، یہ تو صرف ہم، یعنی اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رخصت تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2811 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2813
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:" كَانَتِ الْمُتْعَةُ رُخْصَةً لَنَا".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ متعہ کی رخصت ہمارے لیے خاص تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2813]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تمتع صرف ہمارے لیے رخصت تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2811 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2814
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، فَقُلْتُ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَجْمَعَ الْعَامَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَوْ كَانَ أَبُوكَ لَمْ يَهُمَّ بِذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:" إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ لَنَا خَاصَّةً".
عبدالرحمٰن بن ابی الشعثاء کہتے ہیں کہ میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، تو میں نے کہا: میں نے اس سال حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر ابراہیم نے کہا: اگر تمہارے والد ہوتے تو ایسا ارادہ نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: ابراہیم تیمی نے اپنے باپ کے واسطہ سے روایت بیان کی، اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: متعہ ہمارے لیے خاص تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2814]
حضرت عبدالرحمن بن ابو شعثاء سے روایت ہے کہ میں حضرت ابراہیم نخعی اور حضرت ابراہیم تیمی کے ساتھ تھا، میں نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں اس سال حج اور عمرہ اکٹھا کروں، حضرت ابراہیم کہنے لگے: اگر تیرا باپ زندہ ہوتا تو وہ یہ ارادہ نہ کرتا، پھر انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا فرمان ذکر کیا کہ (یہ خصوصی) تمتع صرف ہمارے لیے ہی تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2811 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن