سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب : إباحة فسخ الحج بعمرة لمن لم يسق الهدى
باب: جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہمیشہ کے لیے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں، کیا ہمارا یہ عمرہ (یعنی ایام حج کے دوران میں) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج40 (2977)، (تحفة الأشراف: 3815)، مسند احمد (4/175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2977
| العمرة قد دخلت في الحج إلى يوم القيامة |
سنن النسائى الصغرى |
2808
| عمرتنا هذه لعامنا أم لأبد قال رسول الله هي لأبد |
سنن النسائى الصغرى |
2809
| تمتع رسول الله وتمتعنا معه ألنا خاصة أم لأبد قال بل لأبد |
Sunan an-Nasa'i Hadith 2808 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← سراقة بن جعشم المدلجي