سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ: غَسْلِ الْمُحْرِمِ بِالسِّدْرِ إِذَا مَاتَ
باب: محرم جب مر جائے تو اسے بیری کے پتے سے غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2856
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2856]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، جبکہ وہ محرم تھا۔ وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام والے) دو کپڑوں میں کفن دے دو۔ اسے خوشبو نہ لگاؤ، نہ اس کے سر کو ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا ہوا اٹھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن