سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. بَابُ: فِي كَمْ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم جب مر جائے تو کتنے کپڑوں میں کفنا دیا جائے۔
حدیث نمبر: 2857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، قَالَ: وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا" , قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی اپنے استاد ابوبشر سے) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے (اس بار اتنا مزید) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2857]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم آدمی اپنی اونٹنی سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو۔“ پھر اس کے بعد فرمایا: ”اس کا سر ننگا رہے اور اسے خوشبو نہ لگانا کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ پڑھتا اٹھے گا۔“ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا کہ میں نے دس سال بعد اس (استاد ابوالبشر) سے پھر یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جس طرح (دس سال پہلے) وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے، صرف اتنا زیادہ کہا: ”اس کے سر اور چہرے کو نہ ڈھانپو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن