🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. بَابُ: فِيمَنْ أُحْصِرَ بِعَدُوٍّ
باب: جسے دشمن کے سبب حج سے روک دیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ , أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنك وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: فَإِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَى".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہیں) اپنی ہدی کا نحر کر لیا اور سر منڈا لیا (اور حلال ہو گئے) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) واجب کر لیا ہے۔ ان شاءاللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2862]
حضرت عبداللہ بن عبداللہ اور حضرت سالم بن عبداللہ نے (اپنے والد) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی، یہ اس وقت کی بات ہے جب (حجاج کا) لشکر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر چکا تھا۔ ابھی انہیں شہید نہیں کیا گیا تھا۔ وہ دونوں کہنے لگے کہ آپ اس سال حج کو نہ جائیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ ہمیں بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ پڑ جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) گئے تھے۔ کفار قریش نے بیت اللہ تک نہ جانے دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی اور سر منڈوا دیا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں جاؤں گا۔ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان راستہ کھلا رہا تو میں طواف (یعنی عمرہ) کر لوں گا اور اگر رکاوٹ پڑ گئی تو میں وہی کچھ کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد کہنے لگے عمرہ اور حج دونوں کا معاملہ ایک ہی ہے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لیا ہے۔ تو آپ ان سے حلال نہیں ہوئے حتیٰ کہ قربانیوں والے دن قربانی ذبح کی اور پھر حلال ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المحصر 1 (1807)، 1808)، المغازي 35 (4185)، (تحفة الأشراف: 7032) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2863
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ عَرِجَ أَوْ كُسِرَ فَقَدْ حَلَّ، وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى" , فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: صَدَقَ.
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہو گا، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2863]
حضرت حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص (دورانِ احرام میں بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے) لنگڑا ہو جائے یا اس کی ٹانگ وغیرہ ٹوٹ جائے (اور اس کا بیت اللہ تک پہنچنا ممکن نہ رہے) تو وہ حلال ہو گیا اور اس پر دوبارہ حج ہوگا۔ (راوی نے کہا:) میں نے اس بارے میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت حجاج انصاری رضی اللہ عنہ نے سچ بیان فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 44 (1863)، سنن الترمذی/الحج 96 (940)، سنن ابن ماجہ/الحج 85 (3078)، (تحفة الأشراف: 3294)، مسند احمد (3/450)، سنن الدارمی/المناسک 57 (1936) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2864
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الصَّوَّافِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى" , وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَا صَدَقَ , وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ".
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے «وعليه الحج من قابل‏» آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2864]
حضرت حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ٹانگ وغیرہ ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے (حتیٰ کہ وہ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکتا) تو وہ حلال ہو گیا اور اس پر آئندہ حج ہوگا۔ (عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا:) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت حجاج انصاری رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ (استاذ) شعیب نے اپنی حدیث میں کہا: اس پر آئندہ سال حج ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2863 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں