سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. بَابُ: كَمْ يَمْشِي
باب: طواف کعبہ میں کتنے پھیروں میں عام چال چلے؟
حدیث نمبر: 2944
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعًا، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2944]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج اور عمرے میں پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز چلتے اور چار چکروں میں آہستہ چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگاتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 63 (1616)، صحیح مسلم/الحج 39 (1261)، سنن ابی داود/الحج 51 (1893)، (تحفة الأشراف: 8453)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ المناسک 29 (2950)، مسند احمد (2/114، 155) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه