سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. بَابُ: الْخَبَبِ فِي الثَّلاَثَةِ مِنَ السَّبْعِ
باب: طواف کعبہ میں سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دلکی چال چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2945
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مکہ آتے تو طواف کے شروع میں حجر اسود کا استلام کرتے، پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دلکی چال (کندھے ہلا کر تیز) چلتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2945]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ پہنچے تو طواف میں سب سے پہلے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے، سات میں سے تین چکروں میں کندھے ہلا کر تیز چلتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 56 (1603)، صحیح مسلم/الحج39 (1261)، (تحفة الأشراف: 6981) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه