سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
189. بَابُ: مَا ذُكِرَ فِي مِنًى
باب: منیٰ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2998
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ؟ فَقُلْتُ: أَنْزَلَنِي ظِلُّهَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى، وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَّبَةُ" , وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ: يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا".
عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے (کچھ دیر آرام کرنے کے لیے) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے ”سربہ“ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے ”سرربہ“ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2998]
حضرت عمران انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے ہٹ کر میرے پاس آئے اور فرمانے لگے: اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: سائے کی خاطر۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو منیٰ کے دو پہاڑوں ( «الْأَخْشَبَيْنِ» ”اخشبین“) کے درمیان ہو، اور آپ نے اپنا ہاتھ مشرق کی طرف بڑھایا، تو وہاں ایک وادی ہے جسے «سَرْبَةٌ» ”سربہ“… یا حارث (بن مسکین) کی حدیث کے مطابق، «سُرُرٌ» ”سرر“… کہا جاتا ہے، اس وادی میں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر نبی پیدا ہوئے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7367) موطا امام مالک/الحج 81 (249)، مسند احمد (2/138) (ضعیف) (اس کے رواة ”محمد بن عمران“ اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عمران: لم يوثقه غير ابن حبان. وللحديث شاهد ضعيف، عند أبى يعلي (5723) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344
حدیث نمبر: 2999
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِمِنًى، فَفَتَحَ اللَّهُ أَسْمَاعَنَا حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ، فَقَالَ: بِحَصَى الْخَذْفِ، وَأَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ أَنْ يَنْزِلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ أَنْ يَنْزِلُوا فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ".
عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں خطبہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے یہاں تک کہ آپ جو کچھ فرما رہے تھے ہم اپنی قیام گاہوں میں (بیٹھے) سن رہے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حج کے طریقے سکھانے لگے یہاں تک کہ آپ جمروں کے پاس پہنچے تو انگلیوں سے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے کے حصے میں ٹھہریں اور انصار کو حکم دیا کہ مسجد کے پچھلے حصہ میں قیام پذیر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2999]
حضرت عبدالرحمن بن معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطاب فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے کان کھول دیے حتیٰ کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فرمان بخوبی سن رہے تھے، حالانکہ ہم اپنے اپنے خیموں میں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مناسکِ حج کی تعلیم دے رہے تھے حتیٰ کہ رمی والی کنکریوں کی بات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «خَذْفٍ» (حذف) کی کنکریوں جیسی چھوٹی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد (خیف) کی اگلی جانب اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ مسجد کی پچھلی جانب اتریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 74 (1957)، (تحفة الأشراف: 9734)، مسند احمد (4/61)، سنن الدارمی/المناسک 59 (1941) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح