سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
190. بَابُ: أَيْنَ يُصَلِّي الإِمَامُ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ
باب: یوم الترویہ کو امام ظہر کہاں پڑھے؟
حدیث نمبر: 3000
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ".
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن ۱؎ عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3000]
حضرت عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو۔ مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویے کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: منیٰ میں۔ میں نے کہا: واپسی (۱۳ ذوالحجہ) کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 83 (1653، 1654)، 146 (1763)، صحیح مسلم/الحج 58 (1309)، سنن ابی داود/الحج 59 (1912)، سنن الترمذی/الحج 116 (964)، (تحفة الأشراف: 988)، مسند احمد (3/100)، سنن الدارمی/المناسک 46 (1914) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کوچ کے دن سے مراد یوم نفر آخر یعنی ذی الحجہ کی تیرہویں تاریخ ہے۔ ”ابطح“ مکہ کے قریب ایک وادی ہے جسے محصب بھی کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه