🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. بَابُ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُبُوعِهِ رَكْعَتَيْنِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1623
وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّي لِكُلِّ سُبُوعٍ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: إِنَّ عَطَاءً، يَقُولُ: تُجْزِئُهُ الْمَكْتُوبَةُ مِنْ رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ، فَقَالَ: السُّنَّةُ أَفْضَلُ لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبُوعًا قَطُّ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
‏‏‏‏ اور نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر سات چکروں پر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اسماعیل بن امیہ نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ عطاء کہتے تھے کہ طواف کی نماز دو رکعت فرض نماز سے بھی ادا ہو جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ سنت پر عمل زیادہ بہتر ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چکر پورے کئے ہوں اور دو رکعت نماز نہ پڑھی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: Q1623]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو،" سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَيَقَعُ الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ , قال: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا کوئی عمرہ میں صفا مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی سے ہمبستر ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کعبہ کا طواف سات چکروں سے پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
قَالَ: وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَا يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ".
عمرو نے کہا کہ پھر میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ صفا مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی کے قریب بھی نہ جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں