صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. بَابُ مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ:
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے طواف کی دو رکعتیں مسجد الحرام سے باہر پڑھیں۔
حدیث نمبر: Q1626
وَصَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَارِجًا مِنَ الْحَرَمِ.
عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حرم سے باہر پڑھی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: Q1626]
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ بمكة وَأَرَادَ الْخُرُوجَ، وَلَمْ تَكُنْ أُمُّ سَلَمَةَ طَافَتْ بالبيت وَأَرَادَتِ الْخُرُوجَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ، فَلَمْ تُصَلِّ حَتَّى خَرَجَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب نے اور انہیں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا غسانی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے اور وہاں سے چلنے کا ارادہ ہوا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کعبہ کا طواف نہیں کیا اور وہ بھی روانگی کا ارادہ رکھتی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو اور لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائیں تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کر لینا۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1626]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کے متعلق شکایت کی۔ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بایں الفاظ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب آپ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے اور وہاں سے روانگی کا ارادہ فرمایا، (میں) ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی روانہ ہونا چاہتی تھی، لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب نماز فجر کھڑی ہو جائے تو تم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کر لو جبکہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور حرم سے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة