صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. بَابُ أَيْنَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ:
باب: آٹھویں ذی الحجہ کو نماز ظہر کہاں پڑھی جائے۔
حدیث نمبر: 1653
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ:" أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ , ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالعزیز بن رفیع کے واسطے سے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز آٹھویں ذی الحجہ میں کہاں پڑھی تھی؟ اگر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہے تو مجھے بتائیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ منیٰ میں۔ میں نے پوچھا کہ بارہویں تاریخ کو عصر کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا کہ محصب میں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمہارے حکام کرتے ہیں اسی طرح تم بھی کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1653]
حضرت عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے ایک چیز کے متعلق بتائیں جو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی طرح یاد ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھویں ذوالحجہ کو ظہر اور عصر کی نمازیں کہاں پڑھی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: یہ نمازیں منیٰ میں پڑھی تھیں۔ میں نے کہا: کوچ کے دن آپ نے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: وادی ابطح میں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1654
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، لَقِيتُ أَنَسًا. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ:" خَرَجْتُ إِلَى مِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَقِيتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاهِبًا عَلَى حِمَارٍ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ الظُّهْرَ؟ فَقَالَ: انْظُرْ حَيْثُ يُصَلِّي أُمَرَاؤُكَ فَصَلِّ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے سنا کہ ہم سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، کہا کہ میں انس رضی اللہ عنہ سے ملا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے کہا کہ میں آٹھویں تاریخ کو منیٰ گیا تو وہاں انس رضی اللہ عنہ سے ملا۔ وہ گدھی پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا دیکھو جہاں تمہارے حاکم لوگ نماز پڑھیں وہیں تم بھی پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1654]
حضرت عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں آٹھویں ذوالحجہ کو منیٰ کی طرف گیا تو وہاں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملا جو گدھے پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: دیکھو! جہاں تمہارے امراء نماز پڑھتے ہیں، وہاں تم بھی نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة