سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: وَقْفِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کے لیے وقف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3636
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ مَا كَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَحْنَفَ، يَقُولُ: وَأَنَا حَاجٌّ فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَى آتٍ، فَقَالَ: قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ، فَاطَّلَعْتُ، فَإِذَا يَعْنِي النَّاسَ مُجْتَمِعُونَ، وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ، فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ قِيلَ: هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ: فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلَيَّةٌ صَفْرَاءُ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَهَهُنَا عَلِيٌّ، أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَهُنَا طَلْحَةُ، أَهَهُنَا سَعْدٌ , قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَابْتَعْتُهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ:" فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ، قَالَ:" فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالًا، وَلَا خِطَامًا، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حصین بن عبدالرحمٰن کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور وہ عمرو بن جاوان سے، جو ایک تمیمی شخص ہیں، روایت کرتے ہیں، اور یہ بات اس طرح ہوئی کہ میں (حصین بن عبدالرحمٰن) نے ان سے (یعنی عمرو بن جاوان سے) کہا: کیا تم نے احنف بن قیس کا اعتزال دیکھا ہے، کیسے ہوا؟ وہ کہتے ہیں: میں نے احنف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں مدینہ آیا (اس وقت) میں حج پر نکلا ہوا تھا، اسی اثناء میں ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے کجاوے اتار اتار کر رکھ رہے تھے کہ اچانک ایک آنے والے شخص نے آ کر بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ اکٹھا ہیں اور انہیں کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم موجود ہیں۔ میں وہاں کھڑا ہو گیا، اسی دوران یہ آواز آئی: یہ لو عثمان بن عفان بھی آ گئے، وہ آئے ان کے جسم پر ایک زرد رنگ کی چادر تھی ۱؎، میں نے اپنے پاس والے سے کہا: جیسے تم ہو ویسے رہو مجھے دیکھ لینے دو وہ (عثمان) کیا کہتے ہیں، عثمان نے کہا: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں (موجود ہیں) انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص خرید لے گا فلاں کا «مربد» (کھلیان، کھجور سکھانے کی جگہ) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے خرید لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ کو بتایا تھا کہ میں نے عقلان کا «مربد» (کھلیان) خرید لیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا: ”اسے ہماری مسجد (مسجد نبوی) میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“، لوگوں نے کہا: ہاں، (ایسا ہی ہوا تھا) (پھر) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا (رومہ مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے) اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ میں (بئررومہ خرید کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور (آپ سے) کہا: میں نے بئررومہ خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“، لوگوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہوا تھا) انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تمہیں معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ تبوک کے موقع پر) فرمایا تھا: ”جو شخص جیش عسرۃ (تہی دست لشکر) کو (سواریوں اور سامان حرب و ضرب سے) آراستہ کرے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے ان لشکریوں کو ساز و سامان کے ساتھ تیار کر دیا یہاں تک کہ انہیں عقال (اونٹوں کے پاؤں باندھنے کی رسی) اور خطام (مہار بنانے کی رسی) کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی۔ لوگوں نے کہا: ہاں (آپ درست فرماتے ہیں ایسا ہی ہوا تھا) یہ سن کر انہوں نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3636]
حضرت حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمرو بن جاوان رحمہ اللہ سے، جو کہ بنو تمیم میں سے تھے، پوچھا کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ (حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کی کشمکش سے) علیحدہ کیوں رہے؟ وہ کہنے لگے: میں نے حضرت احنف رحمہ اللہ کو فرماتے سنا کہ میں ایک دفعہ حج کو جاتے ہوئے مدینہ منورہ گیا۔ ابھی ہم اپنے خیموں میں اپنے پالان ہی اتار رہے تھے کہ کسی آنے والے نے کہا: لوگ مسجد میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ میں نے جا کر دیکھا تو واقعی لوگ جمع تھے اور ان کے درمیان کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم تھے۔ جب میں ان کے پاس کھڑا تھا تو آواز آئی: یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں۔ وہ تشریف لائے تو ان پر ایک بڑی سی زرد چادر تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: ذرا ٹھہرو تاکہ میں دیکھوں، آپ کیسے تشریف لائے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا یہاں علی ہیں؟ زبیر ہیں؟ طلحہ ہیں؟ سعد ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص فلاں خاندان کا کھجوروں کا باڑہ خرید کر (مسجد میں شامل کر) دے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا۔“ میں نے وہ باڑہ خرید کر دیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلاں خاندان کا باڑہ خرید لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسجد میں شامل کر دو۔ اس کا ثواب تجھے ملے گا۔“ سب نے کہا: بالکل درست ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کنواں خریدے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں (اسے خرید کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو۔ اس کا ثواب تمہیں ضرور ملے گا۔“ سب نے کہا: بالکل ٹھیک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص تنگی والے لشکر کو تیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے انہیں سارا سامان دیا حتیٰ کہ وہ کوئی رسی یا مہار تک کی کمی محسوس نہ کرتے تھے؟ ان سب نے کہا: بالکل صحیح ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: «اللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ ہو جا۔“ «اللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ ہو جا!“ «اللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ ہو جا!“ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3184 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کر دی تھیں اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3637
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا، فَانْطَلَقْنَا، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ، وَإِذَا عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيْهِ مُلَاءَةٌ صَفْرَاءُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ: أَهَهُنَا عَلِيٌّ، أَهَهُنَا طَلْحَةُ، أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَهُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَنْ جَهَّزَ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ يَعْنِي: جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالًا، وَلَا خِطَامًا، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلے۔ مدینہ پہنچ کر ہم اپنے پڑاؤ کی جگہوں (خیموں) میں اپنی سواریوں سے سامان اتار اتار کر رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہیں اور گھبرائے ہوئے ہیں تو ہم بھی (وہاں) چلے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ انہیں (چاروں طرف سے) گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ ہم یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان بن عفان آ گئے، وہ اپنے اوپر ایک پیلی چادر ڈالے ہوئے تھے اور اس سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے۔ (آ کر) کہنے لگے: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں (ہیں) انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا «مربد» (کھجوریں خشک کرنے کا میدان، کھلیان) خرید لے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے (وقف کر کے ہماری) مسجد میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں (ہمیں معلوم ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا“، تو میں نے اسے اتنے اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اسے اتنے داموں میں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو عام مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں، (پھر) انہوں نے کہا: میں قسم دیتا ہوں تم کو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا ”جو شخص ان لوگوں کو تیار کر دے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ «هؤلاء» سے مراد جیش عسرت ہے (ساز و سامان سے تہی دست لشکر) تو میں نے انہیں مسلح کر دیا اور اس طرح تیار کر دیا کہ انہیں اونٹوں کے پیر باندھنے کی رسی اور نکیل کی رسی کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی تو ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا ہاں (ایسا ہی ہوا ہے) تب عثمان نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ (میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا ہے اور ایسا کرنے والا مجرم نہیں ہو سکتا)۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3637]
حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم (اپنے گھروں سے) حج کرنے کے ارادے سے نکلے تو مدینہ منورہ بھی گئے۔ ابھی ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے پالان اتار ہی رہے تھے کہ کسی نے آکر کہا: مسجد نبوی میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کچھ گھبرائے ہوئے سے ہیں۔ ہم سب مسجد کی طرف چلے تو واقعتاً لوگ مسجد کے درمیان میں چند بزرگوں کے اردگرد جمع تھے۔ پتا چلا کہ وہ حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم ہیں۔ ابھی ہم اسی طرح کھڑے تھے کہ (امیر المومنین) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے۔ ان پر زرد رنگ کی ایک بڑی چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ فرمانے لگے: یہاں علی ہیں؟ طلحہ ہیں؟ زبیر ہیں؟ سعد ہیں؟ وہ کہنے لگے: جی ہاں۔ فرمانے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص فلاں خاندان کا کھلیان خریدے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے بیس یا پچیس ہزار (درہم) کا خریدا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جگہ کو ہماری مسجد میں شامل کر دو، تمہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا۔“ وہ سب کہنے لگے: اللہ کی قسم! صحیح ہے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بئرِ رومہ خریدے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے وہ کنواں اتنی رقم سے خریدا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے وہ کنواں اتنے کا خریدا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے عام مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا ثواب تمہیں ضرور ملے گا۔“ سب نے (تصدیق کرتے ہوئے) کہا: اللہ کی قسم! درست ہے۔ پھر کہنے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر فرمایا تھا: ”جو شخص ان (لوگوں، یعنی تنگی والے لشکر، مجاہدین تبوک) کو سامان مہیا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے ان سب کو سامان مہیا کیا حتیٰ کہ انہیں کسی رسی یا مہار کی بھی کمی محسوس نہ ہوئی؟ ان سب نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ ہو جا، اے اللہ! گواہ ہو جا، اے اللہ! گواہ ہو جا۔“ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3184 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3638
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَبِالْإِسْلَامِ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ، فَيَجْعَلُ فِيهَا دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ"؟ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَجَعَلْتُ دَلْوِي فِيهَا مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي مِنَ الشُّرْبِ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ، فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ"، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرٍ ثَبِيرِ مَكَّةَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ، فَرَكَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ:" اسْكُنْ ثَبِيرُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ"، يَعْنِي: أَنِّي شَهِيدٌ.
ثمامہ بن حزن قشیری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر موجود تھا جب انہوں نے اوپر سے جھانک کر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو وہاں بئررومہ کے سوا کہیں بھی پینے کا میٹھا پانی نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ہے کوئی جو رومہ کا کنواں خرید کر (وقف کر کے) اپنے اور تمام مسلمانوں کے ڈولوں کو یکساں کر دے اس کے عوض اسے جنت میں اس سے بہتر ملے گا“۔ میں نے (آپ کے اس ارشاد کے بعد) اسے اپنے ذاتی مال سے خرید کر اپنا ڈول عام مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ کر دیا (یعنی وقف کر دیا اور اپنے لیے کوئی تخصیص نہ کی) اور آج یہ حال ہے کہ تم لوگ مجھے اس کا پانی پینے نہیں دے رہے ہو، حال یہ ہے کہ میں سمندر کا (کھارا) پانی پی رہا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ہاں، (اسی طرح ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اسلام اور اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو جیش عسرہ (ضرورت مند لشکر) کو میں نے اپنا مال صرف کر کے جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا۔ ان لوگوں نے کہا: ہاں، (ایسا ہی ہے) انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے مسجد اپنے نمازیوں پر تنگ ہو گئی تھی، آپ نے فرمایا تھا: ”کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین کو خرید کر جنت میں اس سے بہتر پانے کے لیے اسے مسجد میں شامل کر کے مسجد کو مزید وسعت دیدے“۔ تو میں نے اس زمین کے کئی ٹکڑے کو اپنا ذاتی مال صرف کر کے خرید لیا تھا اور مسجد میں اس کا اضافہ کر دیا تھا اور تمہارا حال آج یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے تک نہیں دے رہے ہو۔ لوگوں نے کہا: ہاں (بجا فرما رہے ہیں آپ)۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر بھی تھے اور میں بھی تھا، اس وقت وہ پہاڑ ہلنے لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: ”ثبیر! سکون سے رہ، کیونکہ (یہاں) تیرے اوپر نبی، صدیق اور دو شہید موجود ہیں“۔ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے، ہاں (آپ ٹھیک کہتے ہیں) انہوں نے کہا: اللہ اکبر، اللہ بہت بڑا ہے۔ ان لوگوں نے (میرے شہید ہونے کی) گواہی دی۔ رب کعبہ کی قسم میں شہید ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3638]
حضرت ثمامہ بن حزن قشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس موجود تھا جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دیوار کے اوپر سے (محاصرہ کرنے والے باغیوں پر) جھانکا اور فرمانے لگے: میں تم سے اللہ کی قسم اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو بئر رومہ کے سوا وہاں میٹھا پانی نہیں تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص بئر رومہ خرید کر اپنا ڈول بھی دوسرے مسلمانوں کے ڈولوں کے برابر قرار دے گا تو اسے اللہ تعالیٰ جنت میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔“ میں نے اپنے خالص مال سے وہ کنواں خریدا اور میں نے اس میں اپنے ڈول کو عام مسلمانوں کے ڈولوں کے برابر ہی سمجھا، جبکہ آج تم نے مجھے اس سے پانی پینے سے روک رکھا ہے حتیٰ کہ میں سمندری پانی (جیسا نمکین پانی) پیتا ہوں؟ حاضرین نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں (یہ بات صحیح ہے)۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سے اللہ کی قسم اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ میں نے (غزوۂ تبوک کا) تنگی والا لشکر اپنے مال سے تیار کیا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ پھر فرمایا: میں تم سے اللہ کی قسم اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فلاں خاندان کا احاطہ خرید کر مسجد میں اضافہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں اس سے بہتر دے گا۔“ میں نے اپنے خالص مال سے وہ احاطہ خریدا اور مسجد میں اضافہ کر دیا، آج تم نے مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے روک رکھا ہے؟ حاضرین نے کہا: اللہ کی قسم! آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سے اللہ کی قسم اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور میں بھی تھا، پہاڑ میں حرکت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: ”اے ثبیر! سکون سے رہ، تجھ پر اس وقت ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“ حاضرین نے کہا: اللہ کی قسم! سچ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نعرۂ تکبیر بلند فرمایا اور کہا: رب کعبہ کی قسم! ان لوگوں (میرے مخالفین) نے میرے حق میں گواہی دے دی، انہوں نے میرے حق میں گواہی دی ہے کہ میں شہید ہوں گا۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 19 (3703)، (تحفة الأشراف: 9785)، مسند احمد (1/74) (صحیح) (لیکن ”ثبر‘‘ کا واقعہ صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قصة ثبير
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3639
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ حِينَ حَصَرُوهُ، فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَوْمَ الْجَبَلِ حِينَ اهْتَزَّ، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: اسْكُنْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدَانِ"، وَأَنَا مَعَهُ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ، يَقُولُ: هَذِهِ يَدُ اللَّهِ، وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ يَقُولُ:" مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟" فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ يَزِيدُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ"، فَاشْتَرَيْتُهُ مِنْ مَالِي، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ رَجُلًا شَهِدَ رُومَةَ تُبَاعُ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي، فَأَبَحْتُهَا لِابْنِ السَّبِيلِ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ"،
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، (وہ کہتے ہیں:) کہ جب لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو عثمان نے مکان کے اوپر سے نیچے کی طرف جھانکتے ہوئے لوگوں سے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جس نے پہاڑ کے ہلنے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ جب پہاڑ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹھوکر لگا کر کہا تھا: ”ٹھہرا رہ (سکون سے رہ) تیرے اوپر ایک نبی، صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں“، (کوئی اور نہیں) اس وقت میں آپ کے ساتھ تھا (یہ سن کر) بہت سے لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، انہوں نے (پھر) کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر) فرمایا تھا: ”یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا“ ۱؎، تو بہت سے لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اسی شخص سے پوچھتا ہوں جس نے جیش عسرہ (تنگ حالی سے دوچار لشکر) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کون ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ایسا خرچ جس کی (بارگاہ الٰہی میں) قبولیت یقینی ہے“۔ اس وقت میں نے اپنے ذاتی مال کو خرچ کر کے آدھے لشکر کی ضروریات کو پورا کر کے میدان جنگ میں شریک ہونے کے قابل بنایا تھا تو بےشمار لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں اس شخص سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”کون ہے جو جنت میں ایک گھر کے عوض اس مسجد (نبوی) میں توسیع کرتا ہے“۔ میں نے (یہ سن کر مسجد سے ملی ہوئی زمین) اپنے پیسوں سے خرید کر مسجد کو کشادہ کر دیا، تو لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے پھر کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر اس شخص سے پوچھتا ہوں جو بئررومہ کی فروختگی کے وقت موجود تھا میں نے اسے اپنا مال دے کر خریدا تھا اور میں نے اسے مسافروں کے لیے عام کر دیا تھا (جو بھی گزرنے والا اس کا پانی پینا چاہے پیے) لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3639]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ (کے گھر) کا محاصرہ کر لیا اور انہیں (باہر نکلنے سے روک دیا) تو آپ نے ایک دفعہ دیوار کے اوپر سے انہیں جھانکا اور فرمایا: میں اس شخص سے گواہی کا مطالبہ کرتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ والے دن جب اس نے حرکت کی تھی اور آپ نے اس پر اپنا پاؤں مارا تھا، یہ فرماتے سنا ہے کہ ”اے پہاڑ! سکون سے رہ۔ (اس وقت) تجھ پر نبی، صدیق اور دو شہیدوں کے علاوہ کوئی نہیں۔“ اس وقت میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ بہت سے حاضرین نے اس کی گواہی دی۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ کی قسم دے کر اس شخص سے گواہی کا مطالبہ کرتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعتِ رضوان کے دن فرماتے سنا ہے: ”یہ اللہ کا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا۔“ بہت سے لوگوں نے اس کی بھی گواہی دی، پھر فرمانے لگے: میں اللہ کی قسم دے کر اس شخص سے گواہی کا مطالبہ کرتا ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگی والے لشکر کے دن یہ فرماتے سنا ہے: ”آج کون شخص خرچ کرے گا جو یقیناً قبول ہوگا؟“ تو میں نے اپنے مال سے نصف لشکر کو سازوسامان مہیا کیا۔ اس بات کی بھی بہت سے لوگوں نے گواہی دی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس شخص کو جس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ فرماتے تھے: ”کون شخص ہے ایسا جو بڑھا دے اس مسجد (نبوی) کو جنت کے گھر کے بدلے میں؟“ پھر میں نے اس زمین کو اپنے مال سے خرید لیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس کی بھی گواہی دی، پھر فرمایا: میں اللہ کی قسم دے کر اس شخص سے گواہی کا مطالبہ کرتا ہوں جس نے بئرِ رومہ کی فروخت کا واقعہ دیکھا ہے، میں نے اسے اپنے مال سے خرید کر مسافروں کے لیے وقف کیا۔ بہت سے لوگوں نے اس کی گواہی دی۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9842)، مسند احمد (1/59) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اللہ کا ہاتھ“ جو ارشاد فرمایا ہے تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح کی آیت (۱۵) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: «إن الذين يبايعونك إنما يبايعون الله يد الله فوق أيديهم» ”بلاشبہ جو لوگ اے ہمارے نبی! (حدیبیہ میں) بیعت کر رہے تھے وہ گویا اللہ رب العزت سے بیعت کر رہے تھے، اللہ عزوجل کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں کے اوپر تھا“ (الفتح: 10)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3640
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ فِي دَارِهِ، اجْتَمَعَ النَّاسُ حَوْلَ دَارِهِ، قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کا ان کے گھر میں محاصرہ کر دیا گیا اور لوگ ان کے گھر کے چاروں طرف اکٹھا ہو گئے تو انہوں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا، اور عبدالرحمٰن نے (اوپر گزری ہوئی) پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3640]
حضرت ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں محصور کر دیا گیا تو لوگ ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئے۔ آپ نے دیوار سے ان کی طرف سے جھانکا۔ (پھر راوی نے سابقہ حدیث بیان کی) (تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: ۳۱۸۴) [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 33 (2778) تعلیقًا سنن الترمذی/المناقب 19 (3699)، (تحفة الأشراف: 9814) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح