سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : وقف المساجد
باب: مساجد کے لیے وقف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3637
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا، فَانْطَلَقْنَا، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ، وَإِذَا عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيْهِ مُلَاءَةٌ صَفْرَاءُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ: أَهَهُنَا عَلِيٌّ، أَهَهُنَا طَلْحَةُ، أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَهُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَنْ جَهَّزَ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"؟ يَعْنِي: جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالًا، وَلَا خِطَامًا، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلے۔ مدینہ پہنچ کر ہم اپنے پڑاؤ کی جگہوں (خیموں) میں اپنی سواریوں سے سامان اتار اتار کر رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے نے آ کر خبر دی کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہیں اور گھبرائے ہوئے ہیں تو ہم بھی (وہاں) چلے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مسجد کے بیچ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگ انہیں (چاروں طرف سے) گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ ہم یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان بن عفان آ گئے، وہ اپنے اوپر ایک پیلی چادر ڈالے ہوئے تھے اور اس سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے۔ (آ کر) کہنے لگے: کیا یہاں علی ہیں، کیا یہاں طلحہ ہیں، کیا یہاں زبیر ہیں، کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں (ہیں) انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا «مربد» (کھجوریں خشک کرنے کا میدان، کھلیان) خرید لے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے (وقف کر کے ہماری) مسجد میں شامل کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں (ہمیں معلوم ہے) (پھر) انہوں نے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا“، تو میں نے اسے اتنے اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اسے اتنے داموں میں خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو عام مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا تمہیں اجر ملے گا“۔ انہوں نے اللہ کا نام لے کر کہا: ہاں، (پھر) انہوں نے کہا: میں قسم دیتا ہوں تم کو اس اللہ کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا تھا ”جو شخص ان لوگوں کو تیار کر دے گا اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“۔ «هؤلاء» سے مراد جیش عسرت ہے (ساز و سامان سے تہی دست لشکر) تو میں نے انہیں مسلح کر دیا اور اس طرح تیار کر دیا کہ انہیں اونٹوں کے پیر باندھنے کی رسی اور نکیل کی رسی کی بھی ضرورت باقی نہ رہ گئی تو ان لوگوں نے اللہ کا نام لے کر کہا ہاں (ایسا ہی ہوا ہے) تب عثمان نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ (میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا ہے اور ایسا کرنے والا مجرم نہیں ہو سکتا)۔ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3637]
حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم (اپنے گھروں سے) حج کرنے کے ارادے سے نکلے تو مدینہ منورہ بھی گئے۔ ابھی ہم اپنی قیام گاہوں میں اپنے پالان اتار ہی رہے تھے کہ کسی نے آکر کہا: مسجد نبوی میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کچھ گھبرائے ہوئے سے ہیں۔ ہم سب مسجد کی طرف چلے تو واقعتاً لوگ مسجد کے درمیان میں چند بزرگوں کے اردگرد جمع تھے۔ پتا چلا کہ وہ حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم ہیں۔ ابھی ہم اسی طرح کھڑے تھے کہ (امیر المومنین) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے۔ ان پر زرد رنگ کی ایک بڑی چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ فرمانے لگے: یہاں علی ہیں؟ طلحہ ہیں؟ زبیر ہیں؟ سعد ہیں؟ وہ کہنے لگے: جی ہاں۔ فرمانے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص فلاں خاندان کا کھلیان خریدے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے بیس یا پچیس ہزار (درہم) کا خریدا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس جگہ کو ہماری مسجد میں شامل کر دو، تمہیں اس کا ثواب ضرور ملے گا۔“ وہ سب کہنے لگے: اللہ کی قسم! صحیح ہے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بئرِ رومہ خریدے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے وہ کنواں اتنی رقم سے خریدا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے وہ کنواں اتنے کا خریدا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے عام مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا ثواب تمہیں ضرور ملے گا۔“ سب نے (تصدیق کرتے ہوئے) کہا: اللہ کی قسم! درست ہے۔ پھر کہنے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر فرمایا تھا: ”جو شخص ان (لوگوں، یعنی تنگی والے لشکر، مجاہدین تبوک) کو سامان مہیا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“ میں نے ان سب کو سامان مہیا کیا حتیٰ کہ انہیں کسی رسی یا مہار کی بھی کمی محسوس نہ ہوئی؟ ان سب نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ ہو جا، اے اللہ! گواہ ہو جا، اے اللہ! گواہ ہو جا۔“ [سنن نسائي/كتاب الاحباس/حدیث: 3637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3184 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3637 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3637
اردو حاشہ:
ضرورت کے وقت آدمی اپنی نیکی دوسروں پر ظاہر کرسکتا ہے بشرطیکہ اس میں ریا کا خدشہ نہ ہو۔
ضرورت کے وقت آدمی اپنی نیکی دوسروں پر ظاہر کرسکتا ہے بشرطیکہ اس میں ریا کا خدشہ نہ ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3637]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3637 in Urdu
الزبير بن العوام الأسدي ← سعد بن أبي وقاص الزهري