🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ: إِذَا حَلَفَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ هَلْ لَهُ اسْتِثْنَاءٌ
باب: ایک آدمی قسم کھائے اور دوسرا اس کے لیے ان شاءاللہ کہے تو کیا استثناء کا اعتبار ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3862
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً , كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَلَمْ يَقُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ , فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا , فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ , جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ , وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہ السلام نے (قسم کھا کر) کہا: آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا: ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر انہوں نے ان شاءاللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 3 (6639)، تحفة الأشراف: 13731)، صحیح مسلم/الأیمان 5 (1654)، سنن الترمذی/الأیمان 7 (1532- تعلیقاً)، مسند احمد (2/229، 275، 506) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ قسم کھانے والے نے اگر بذات خود ان شاءاللہ نہیں کہا ہے بلکہ کسی اور نے کہا ہے تو یہ استثناء قسم کھانے والے کے حق میں مفید نہ ہو گا (یعنی: اگر قسم توڑی تو حانث ہو جائے گا)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں