سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الأَعْمَشِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4077
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هُوَ , يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ؟، قَالَ: لِم؟. قُلْتُ: لِأَضْرِبَ عُنْقَهُ، إِنْ أَمَرْتَنِي بِذَلِكَ، قَالَ: أَفَكُنْتَ فَاعِلًا. قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِيَ الَّتِي قُلْتُ غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَا كَانَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر غصہ ہوئے، تو میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! یہ کون ہے؟ کہا: کیوں؟ میں نے کہا: تاکہ اگر آپ کا حکم ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں؟ انہوں نے کہا: کیا تم ایسا کر گزرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے جو میں نے کہی ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ بولے: یہ مقام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4077]
حضرت حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر ناراض ہوئے (کیونکہ اس نے آپ کو گالی دی تھی)۔ میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول! یہ کون شخص ہے؟ فرمایا: کیوں؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اتار سکوں بشرطیکہ آپ مجھے حکم دیں۔ انہوں نے فرمایا: تو ایسے کر گزرے گا؟ میں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جو بات میں نے کہی تھی اس کی عظمت نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم کر دیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہ حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو حاصل نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4078
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں؟ کہا: آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر بولے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4078]
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی آدمی پر غصے ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: اے خلیفۂ رسول اللہ! یہ کون شخص ہے جس پر آپ اس قدر ناراض ہو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میری اس بات نے ان کا غصہ ختم کر دیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (آپ کے علاوہ) کسی کا حق نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4079
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: لَوْ أَمَرْتَنِي لَفَعَلْتُ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ ," مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک شخص پر غصہ ہوئے، میں نے کہا: اگر آپ حکم دیں تو میں کچھ کروں، انہوں نے کہا: سنو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4079]
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی آدمی پر بہت ناراض ہوئے۔ میں نے کہا: اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں کر گزروں (اسے قتل کر دوں)۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4080
أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: غَضِبَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرْتَنِي لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. فَكَأَنَّمَا صُبَّ عَلَيْهِ مَاءٌ بَارِدٌ , فَذَهَبَ غَضَبُهُ عَنِ الرَّجُلِ، قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا بَرْزَةَ،" وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ أَبُو نَصْرٍ وَاسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ. خَالَفَهُ شُعْبَةُ.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ ان کا رنگ بدل گیا، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! اللہ کی قسم! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں، اچانک دیکھا گویا آپ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو، چنانچہ اس شخص پر آپ کا غصہ ختم ہو گیا اور کہا: ابوبرزہ! تمہاری ماں تم پر روئے، یہ مقام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا ہے ہی نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (ابونضرۃ) غلط ہے صحیح ابونصر ہے، ان کا نام حمید بن ہلال ہے۔ شعبہ نے مخالفت کرتے ہوئے اس (ابونضرۃ) کے برعکس (ابونصر) کہا ہے۔ (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4080]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر بہت زیادہ ناراض ہوئے حتیٰ کہ ان کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کی: اے خلیفۂ رسول اللہ! اللہ کی قسم! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اتار دوں گا۔ (میری اس بات سے) گویا ان پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا، چنانچہ اس شخص پر سے ان کا غصہ ختم ہو گیا۔ اور فرمانے لگے: اے ابوبرزہ! تیری ماں تجھے گم پائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مرتبہ اور حق نہیں۔ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے، درست ابو نصر ہے اور اس (ابونصر) کا نام حمید بن ہلال ہے، شعبہ نے زید بن ابو انیسہ کی مخالفت کی ہے (یعنی عمرو بن مرہ سے اس کی روایت میں مخالفت کی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح) (نمبر 4082 میں آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس میں انقطاع ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4081
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَقَدْ أَغْلَظَ لِرَجُلٍ فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَانْتَهَرَنِي، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو نَصْرٍ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ , وَرَوَاهُ عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , فَأَسْنَدَهُ.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے ایک شخص کو کچھ سخت سست کہا تو اس نے جواب میں ویسا ہی کہا، میں نے کہا: کیا اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونصر کا نام حمید بن ہلال ہے اور اسے ان سے یونس بن عبید نے مسنداً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4081]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ کسی شخص پر سخت ناراض ہو رہے تھے۔ اس نے جواباً آپ کو کچھ کہا (بدتمیزی کی)۔ میں نے کہا: میں اس کی گردن نہ اتار دوں؟ آپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو نصر کا نام حمید بن ہلال ہے، اور اس سے یہ حدیث یونس بن عبید نے بیان کی تو اس نے اس کو مسند، یعنی متصل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم 4076 (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن اگلی سند متصل ہے)»
وضاحت: ۱؎: عمرو بن مرہ کی پچھلی دونوں سن دوں میں ”حمید بن ہلال“ اور ”ابوبرزہ رضی اللہ عنہ“ کے درمیان انقطاع ہے، اور یونس بن عبید کی یہ روایت متصل ہے کیونکہ اس میں ”حمید“ اور ”ابوبرزہ“ کے درمیان ”عبداللہ بن مطرف“ کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4082
أَخْبَرَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , أَضْرِبُ عُنُقَهُ. فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ أَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ , فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، مَا قُلْتَ: وَنَسِيتُ الَّذِي، قُلْتُ: قُلْتُ: ذَكِّرْنِيهِ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ؟!، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى رَجُلٍ؟، فَقُلْتَ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَمَا تَذْكُرُ ذَلِكَ أَوَ كُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ، قُلْتُ: نَعَمْ , وَاللَّهِ وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ. قَالَ:" وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ أَحْسَنُ الْأَحَادِيثِ وَأَجْوَدُهَا , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، آپ ایک مسلمان آدمی پر غصہ ہوئے اور آپ کا غصہ سخت ہو گیا، جب میں نے دیکھا تو عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں نے یہ ساری گفتگو بدل کر دوسری گفتگو شروع کر دی، پھر جب ہم جدا ہوئے تو مجھے بلا بھیجا اور کہا: ابوبرزہ! تم نے کیا کہا؟ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ بھول چکا تھا، میں نے کہا: مجھے یاد دلائیے، تو آپ نے کہا: کیا تم نے جو کہا تھا وہ تمہیں یاد نہیں آ رہا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! تو آپ نے کہا: جب مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے دیکھا تو کہا تھا: اے خلیفہ رسول! کیا میں اس کی گردن اڑا دوں؟ کیا یہ تمہیں یاد نہیں ہے؟ کیا تم ایسا کر گزرتے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! اگر آپ اب بھی حکم دیں تو میں کر گزروں، تو آپ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کسی کا یہ مقام نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس سے متعلق مروی احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور عمدہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4082]
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ کسی مسلمان آدمی پر ناراض ہوئے اور انتہائی زیادہ ناراض ہوئے۔ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول! میں اس کی گردن اتار دوں؟ جب میں نے قتل کا ذکر کیا تو اس بات کو آپ نے مکمل طور پر چھوڑ دیا اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ جب ہم متفرق ہو گئے تو آپ نے مجھے پیغام بھیجا اور فرمایا: ابو برزہ! تم نے کیا کہا تھا؟ میں اس وقت تک بھول چکا تھا کہ میں نے کیا کہا تھا۔ میں نے آپ سے کہا: مجھے یاد دلا دیجیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تجھے یاد نہیں، تو نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ آپ نے فرمایا: جب تو نے مجھے ایک آدمی پر ناراض ہوتے دیکھا تو تو نے کہا تھا: اے خلیفۂ رسول! میں اس کی گردن اتار دوں؟ کیا تجھے یہ بات یاد نہیں؟ کیا تو (واقعی) ایسے کر دیتا (یعنی اسے قتل کر دیتا؟) میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ اب بھی اگر آپ حکم دیں تو میں یہ کام کر گزروں گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ رتبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا بھی نہیں۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان احادیث میں یہ حدیث سب سے بہتر اور احسن ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سند کے لحاظ سے بہتر اور عمدہ ہونا ہے، کیونکہ پچھلی دونوں سن دوں میں انقطاع ہے جیسا کہ گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن