سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: صَيْدِ الْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ
باب: غیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4271
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اس سر زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ملتا ہے۔ میں تیر کمان سے شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے بھی شکار کرتا ہوں اور غیر سدھائے ہوئے کتے سے بھی۔ آپ نے فرمایا: ”جو شکار تم تیر سے کرو تو اللہ کا نام لے کر اسے کھاؤ ۱؎ اور جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اللہ کا نام لے کر اسے کھاؤ، اور جو شکار تم غیر سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اگر اسے ذبح کر سکو تو کھا لو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4271]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شکار والے علاقے میں رہتے ہیں۔ میں تیر سے بھی شکار کرتا ہوں، اپنے سدھائے ہوئے اور ان سدھائے کتوں کے ساتھ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو اپنے تیر سے شکار کرے، اسے کھا سکتا ہے بشرطیکہ تو نے (چھوڑتے وقت) «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی ہو۔ اسی طرح جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرے، وہ بھی کھا سکتا ہے بشرطیکہ تو نے کتا چھوڑتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی ہو، البتہ جو شکار تو ان سدھائے (غیر تربیت یافتہ) کتے سے کرے، اگر اس کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، تب کھا سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 4 (5478)، 10(5488)، 14(5496)، صحیح مسلم/الصید1(1930)، سنن ابی داود/الصید2(2855)، سنن الترمذی/السیر 11 (1560م)، سنن ابن ماجہ/الصید 3 (3207)، (تحفة الأشراف: 11875)، مسند احمد (4/193، 194، 195)، سنن الدارمی/السیر 56 (2541) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تیر پھینکتے وقت اللہ کا نام لو پھر اسے کھاؤ۔ ۲؎: اور اگر پانے سے پہلے مر گیا ہو تو مت کھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه