سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا لَمْ يُسَمِّ عَلَيْهِ
باب: جب کوئی اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو شریک پائے جس پر اس نے «بسم اللہ» نہ پڑھی ہو؟
حدیث نمبر: 4273
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيَّهَا قَتَلَهُ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ”جب تم (شکار پر) اپنا کتا چھوڑو پھر اس کے ساتھ کچھ ایسے کتے بھی شریک ہو جائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے تو تم اسے مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسے کس کتے نے قتل کیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنے (سدھائے ہوئے) کتے کو چھوڑے، پھر اس کے ساتھ اور کتے مل جائیں جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نہیں جانتا کہ ان میں سے کس کتے نے قتل کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن