سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا غَيْرَهُ
باب: جب اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4274
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ كَلْبًا آخَرَ مَعَ كَلْبِكَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاؤ تو مت کھاؤ اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی، دوسرے کتے پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4274]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھے تو اس کا شکار کھا لے۔ اور اگر تو اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو پھر نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4275
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَكَانَ لَنَا جَارًا، وَدَخِيلًا، وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ؟، قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نہرین میں ہمارے پڑوسی تھے، ہمارے گھر آتے جاتے تھے اور ایک زاہد شخص تھے، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو میں اپنے کتے کے ساتھ ایک کتا دیکھتا ہوں جس نے شکار پکڑ رکھا ہے مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4275]
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جو کہ نہرین شہر میں ہمارے پڑوسی تھے، ملنے جلنے والے اور اللہ لوگ (زاہد) آدمی تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں، پھر اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، (تحفة الأشراف: 9861)، مسند احمد (4/256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4276
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4276]
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کی روایت مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، (تحفة الأشراف: 9858)، مسند احمد (4/257) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4277
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْغَيْلَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَوَجَدْتَ مَعَهُ غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر اس نے اس (شکار) میں سے کچھ کھایا ہو تو تم اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ اسے اس کتے نے اپنے لیے شکار کیا ہے، اور جب تم اپنے کتے کو چھوڑو پھر اس کے ساتھ اس کے علاوہ (کوئی کتا) پاؤ تو اس شکار کو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4277]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں شکار کے لیے اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھے تو اس کا شکار کھا سکتا ہے۔ اگر کتا اس میں سے کچھ کھا لے تو پھر تو نہ کھا کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ اور جب تو اپنا کتا چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو اس کا شکار نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی ہے نہ کہ دوسرے پر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 2 (5476)، (5486)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2854)، (تحفة الأشراف: 9863)، مسند احمد (4/380) سنن الدارمی/الصید 1 (2045)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4311) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4278
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَنِ الْحَكَمِ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ؟، قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کس نے شکار کیا؟۔ آپ نے فرمایا: ”اسے (شکار کو) مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر «بسم اللہ» پڑھی تھی، کسی دوسرے (کتے) پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4278]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، پھر اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی پاتا ہوں، میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے پر نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4275، 4276، 4277 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن