سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: الْكَلْبُ يَأْكُلُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: کتا شکار میں سے کچھ کھا لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4279
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا، وَعَاصِمٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ"، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ كَلْبِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ نوک سے مارا جائے تو کھا لو اور اگر وہ آڑے سے مارا جائے تو وہ «موقوذہ» ہے (جو حرام ہے)“۔ میں نے آپ سے شکاری کتے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ“، میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالے؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ اسے مار ڈالے، ہاں اگر اس میں سے اس نے بھی کھا لیا تو تم مت کھاؤ اور اگر تم اس کے ساتھ اپنے کتے کے علاوہ کوئی کتا دیکھو اور اس نے شکار مار ڈالا ہو تو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا تھا کسی اور کتے پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4279]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے تیر کے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جسے تیر نوک کے بل لگا ہو، اسے کھا لے اور جسے عرض کے بل (یا کسی اور طرف سے) لگا ہو، وہ چوٹ سے مرنے والا جانور ہے۔“ میں نے آپ سے شکاری کتے کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جب تو کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے تو اس کا شکار کھا لے۔“ میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دے؟ آپ نے فرمایا: ”خواہ وہ قتل کر دے۔ لیکن اگر وہ اس میں سے کھانے لگے تو پھر نہ کھا۔ اور اگر تو اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے جبکہ جانور ختم ہو چکا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا ہے نہ کہ دوسرے کتے پر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4669 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4280
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ اسے مار ڈالے اور اس نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ، اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھایا ہو تو مت کھاؤ اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تمہارے لیے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4280]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا چھوڑے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھے، پھر وہ قتل بھی کر دے لیکن خود نہ کھائے تو وہ شکار تو کھا لے۔ اور اگر وہ کھانا شروع کر دے تو پھر نہ کھا کیونکہ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ) اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تیرے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن