سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: ذَبْحِ الرَّجُلِ أُضْحِيَتَهُ بِيَدِهِ
باب: اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4423
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ:" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، يَطَؤُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا، وَيُسَمِّي، وَيُكَبِّرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی جو سینگ دار اور چتکبرے تھے۔ آپ ان (کی گردن) کے پہلو پر قدم رکھ کر انہیں ذبح کر رہے تھے اور «بسم اللہ، اللہ اکبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4423]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے سیاہ و سفید دو مینڈھے «بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتے ہوئے قربان فرمائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو پر پاؤں مبارک رکھا ہوا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1966)، (تحفة الأشراف: 1191) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، لیکن جائز یہ بھی ہے کہ دوسرے سے کروائے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم