سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ: بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ
باب: سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4574
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ , وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 78 (2177)، صحیح مسلم/البیوع 35 (المساقاة14) (1584)، سنن الترمذی/البیوع 24 (1241)، (تحفة الأشراف: 4385)، موطا امام مالک/البیوع 16(30)، مسند احمد 3/4، 51، 53، 61، 73، 97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4575
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ النَّهْيَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ , إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ , مِثْلًا بِمِثْلٍ , وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ , وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی بیچنے سے روکا ہے، سوائے اس کے کہ وہ برابر ہوں، اور (ان میں سے) کسی نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو، اور نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ کرو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ , أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا , إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پینے کا برتن جو سونے یا چاندی کا تھا اس سے زائد وزن کے بدلے بیچا تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی بیع سے منع فرماتے ہوئے سنا، سوائے اس کے کہ وہ برابر برابر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10953)، موطا امام مالک/البیوع 16 (33)، مسند احمد (6/448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح