🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

86. بَابُ: الْمُكَاتَبِ يُبَاعُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ شَيْئًا
باب: مکاتب نے اگر بدل کتابت میں سے کچھ نہ ادا کیا ہو تو اسے بیچا جا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4660
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ , وَاللَّيْثُ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ , إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ , فَأَعِينِينِي وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ , وَنَفِسَتْ فِيهَا: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ , فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا , وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ , وَيَكُونَ ذَلِكِ لَنَا , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي , وَأَعْتِقِي , فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ" , فَفَعَلَتْ , وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ , فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى , ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ , فَمَا بَالُ النَّاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ , اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ , وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ , قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ , وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا نے آ کر کہا: عائشہ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں (مالکوں) سے مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں۔ (اس وقت) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا۔ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں: جاؤ اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں اور تمہارا ولاء (حق وراثت) میرے لیے ہو گا تو میں ایسا کروں، بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن وہ ولاء (ترکہ) ہمارا ہو گا، اس کا ذکر عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ چیز تمہیں ان سے مانع نہ رکھے، خریدو اور آزاد کر دو، ولاء (ترکہ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: امابعد، لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہوتیں، جو ایسی شرط لگائے گا جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے گرچہ وہ سو شرطیں ہوں، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ قابل قبول اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ لائق بھروسہ ہے، ولاء (حق وراثت) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4660]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے عائشہ! میں نے اپنے مالکان سے نو اوقیے پر آزادی کا معاہدہ کیا ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا، لہٰذا میری مدد فرمائیے۔ ابھی تک انہوں نے اپنی کتابت کی رقم سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ وہ اسے آزاد کر دیں، اس لیے انہوں نے اس سے کہا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں میں ان کو یہ (ان کی رقم) یکمشت ادا کر دوں اور تیری ولا لوں گی تو میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہ بات انہیں پیش کی۔ انہوں نے انکار کیا اور کہنے لگے: اگر وہ ثواب حاصل کرنے کے لیے تجھے آزاد کرنا چاہیں تو کر دیں لیکن ولا ہماری ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی اس بات کی وجہ سے انکار نہ کرنا بلکہ خرید کر آزاد کر دو۔ ولا اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» اما بعد! کیا وجہ ہے کہ لوگ سودے کرتے وقت ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ کی رو سے جائز نہیں؟ جو شخص بھی ایسی شرط لگائے گا جو کتاب اللہ کی رو سے جائز نہ ہو تو وہ باطل اور مردود ہو گی اگرچہ سو دفعہ لگائی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی صحیح ہے اور اللہ تعالیٰ کی جائز کردہ شرطیں ہی معتبر ہیں۔ یاد رکھو! ولا اسی کی ہو گی جو آزاد کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں