صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. بَابُ مَنْ لَبَّدَ رَأْسَهُ عِنْدَ الإِحْرَامِ وَحَلَقَ:
باب: اس کے متعلق جس نے احرام کے وقت سر کے بالوں کو جما لیا اور احرام کھولتے وقت سر منڈوا لیا۔
حدیث نمبر: 1725
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں (اپنے ساتھ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کر لوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1725]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کو کیا ہوا، انہوں نے عمرے کا احرام کھول دیا لیکن آپ نے ابھی تک احرام نہیں کھولا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بال جمائے ہیں اور قربانی کے گلے میں قلادہ ڈالا ہے۔ میں احرام نہیں کھولوں گا یہاں تک کہ قربانی کرلوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة