🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ: الْقِصَاصِ فِي السِّنِّ
باب: دانت کے قصاص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4756
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْقِصَاصِ فِي السِّنِّ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت میں قصاص کا فیصلہ فرمایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4756]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت میں قصاص کا حکم جاری فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا حکم قصاص ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 685)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر البقرة 23 (4499) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4757
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، اسے ہم قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹا تو اس کا عضو ہم کاٹیں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4757]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا، ہم اسے قتل کر دیں گے اور جو کوئی اپنے غلام کی ناک یا کان کاٹ دے، ہم اس کی ناک کان کاٹ دیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4740 (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: اس آخری جملہ کی باب سے مطابقت ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہمارے لیے اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4758
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ خَصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ". وَاللَّفْظُ لِابْنِ بَشَّارٍ.
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو خصی کیا اسے ہم خصی کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا عضو کاٹا ہم اس کا عضو کاٹیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4758]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام کو خصی کرے، ہم اسے خصی کر دیں گے اور جو اپنے غلام کی ناک کان کاٹے گا، ہم اس کی ناک کان کاٹیں گے۔ یہ الفاظ ابن بشار کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4740 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4759
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا , فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ"، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ , لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ , الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ"، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ , لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ رضی اللہ عنہا ۱؎ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا، وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص ہو گا قصاص، ام ربیع رضی اللہ عنہا بولیں: اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا؟ نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی بھی قصاص نہ لیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، ام ربیع! قصاص تو اللہ کی کتاب کا حکم ہے، وہ بولیں: نہیں، اس سے ہرگز قصاص نہ لیا جائے گا، وہ کہتی رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے دیت قبول کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کو (قسم میں) سچا کر دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4759]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا۔ وہ یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص دینا ہوگا۔ ربیع کی والدہ کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ام حارثہ سے قصاص لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ! ام ربیع! قصاص تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! نہیں۔ اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ وہ اسی طرح کہتی رہیں حتیٰ کہ فریق ثانی نے دیت قبول کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ انھیں سچا کر دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 5 (1675)، (تحفة الأشراف: 332)، مسند احمد (3/ 284) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں زخمی کرنے والی کا نام ربیع بنت نضر کی بہن ام حارثہ ہے اور اعتراض کرنے والی ربیع ہیں، جب کہ اگلی روایت میں زخمی کرنے کی نسبت خود ربیع بنت نضر کی طرف کی گئی ہے، اور اعتراض کرنے کی نسبت ان کے بھائی انس بن نضر کی طرف کی گئی ہے، حافظ ابن حزم وغیرہ علماء کی تحقیق کے مطابق یہ الگ الگ دو واقعات ہیں، حافظ ابن حجر کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے، (دیکھئیے کتاب الدیات باب ۱۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں