سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: عَلامَةُ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کی پہچان۔
حدیث نمبر: 5042
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ"، قَالَ الْقَاضِي يَعْنِي ابْنَ الْكَسَّارِ: سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ الْبُخَارِيَّ، يَقُولُ: حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الَّذِي يَرْوِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَا أَعْرِفُهُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَقَطَ الْوَاوُ مِنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو الرَّبَالِيِّ الْمَشْهُورُ بِالرِّوَايَةِ، عَنْ الْبَصْرِيِّينَ وَهُوَ ثِقَةٌ، ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي حَدِيثِ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ فِي بَابِ صِفَةِ الْمُسْلِمِ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: لَا أَعْلَمُ رَوَى حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْمَرْفُوعَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ" بِزِيَادَةِ قَوْلِهِ:" وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا"، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ الْبَصْرِيَّ، وَهُوَ فِي هَذَا الْجُزْءِ فِي بَابِ مَا يُقَاتِلُ النَّاسَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5042]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں بن سکتا حتیٰ کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔“ کتاب الایمان اختتام پذیر ہوئی۔ قاضی ابن کسار کہتے ہیں کہ میں نے عبدالصمد بخاری سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ حفص بن عمر جو (حدیث: 5000 میں) عبدالرحمٰن بن مہدی سے بیان کرتے ہیں میں انہیں نہیں جانتا۔ ہاں اگر وہ حفص بن عمر الربالی ہوں جو عموماً بصریوں سے روایت کرتے ہیں تو وہ ثقہ راوی ہیں۔ قاضی کہتے ہیں کہ انہیں یہ کہتے ہوئے بھی سنا: میں نہیں جانتا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ» ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قتال کروں“ اور «وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا» ”اور انہوں نے ہمارے قبلہ کا رخ کیا“ کے اضافے کے ساتھ سوائے عبداللہ بن مبارک اور یحییٰ بن ایوب مصری کے کسی نے حمید الطویل سے بیان کی ہو۔ اور وہ اسی جز میں باب ”علی ما یقاتل الناس“ کے تحت گزر چکی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5019 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن