سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْخِضَابِ، بِالسَّوَادِ
باب: کالا خضاب لگانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5078
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ:" قَوْمٌ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ آخِرَ الزَّمَانِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اخیر زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کبوتر کے پوٹوں کی طرح کالا خضاب لگائیں گے، انہیں جنت کی خوشبو نصیب نہ ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5078]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ ”آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو سیاہ رنگ سے اپنے بال رنگیں گے جیسے کبوتروں کے سینے ہوتے ہیں، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 20 (4212)، (تحفة الأشراف: 5548) مسند احمد (1/273) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5079
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ , وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا، سفیدی میں ان کا سر اور ڈاڑھی دونوں «ثغامہ» کی طرح سفید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5079]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ پودے (کے پھل اور پھول) کی طرح بالکل سفید تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو کسی رنگ سے بدل دو مگر سیاہ رنگ سے پرہیز کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4204)، (تحفة الأشراف: 2807)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3624)، مسند احمد (3/306، 322، 338) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «ثغامہ» ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم