🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

142. بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ:
باب: دونوں جمروں کے پاس دعا کرنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1753
وَقَالَ مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا" , قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ مِثْلَ هَذَا، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
اور محمد بن بشار نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور انہیں زہری نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرہ کی رمی کرتے جو منی کی مسجد کے نزدیک ہے تو سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر «الله اكبر» کہتے، پھر آگے بڑھتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے تھے، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک کھڑے رہتے تھے پھر جمرہ ثانیہ (وسطی) کے پاس آتے یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے، پھر بائیں طرف نالے کے قریب اتر جاتے اور وہاں بھی قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے اور یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے، اس کے بعد واپس ہو جاتے یہاں آپ دعا کے لیے ٹھہرتے نہیں تھے۔ زہری نے کہا کہ میں نے سالم سے سنا وہ بھی اسی طرح اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1753]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے (بواسطہ سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ عن ابن عمر رضی اللہ عنہما) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو رمی کرتے جو مسجد منیٰ کے قریب ہے تو اسے سات کنکریاں مارتے۔ جب بھی کنکری مارتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ پھر آگے بڑھ جاتے اور قبلہ رو ہو کر ٹھہرتے، پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، اس طرح دیر تک وہاں ٹھہرتے۔ پھر دوسرے جمرے کے پاس آتے اور اس کو سات کنکریاں مارتے۔ جب بھی کنکری مارتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ پھر بائیں جانب وادی کے قریب اتر جاتے، وہاں بھی قبلہ رو کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے، اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ اس کے بعد واپس ہو جاتے اور اس کے پاس دعا کے لیے نہ ٹھہرتے۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت سالم رحمہ اللہ سے سنا، وہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، نیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں