سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ: مَوْضِعِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی کس انگلی میں ہو؟
حدیث نمبر: 5284
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا , فَقَالَ:" إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا عَلَيْهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ" , وَإِنِّي لَأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر نقش کرایا ہے، لہٰذا ایسا نقش کوئی نہ کرائے“، گویا میں اس کی چمک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلی میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5284]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور ہم نے اس پر ایک عبارت کندہ کروائی ہے، کوئی شخص اس کے مطابق عبارت کندہ نہ کروائے۔“ اللہ کی قسم! میں (عالمِ تصور میں اب بھی) اس انگوٹھی کی چمک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلی میں دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 51 (5874)، (تحفة الأشراف: 1044) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5285
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5285]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، سنن الترمذی/الشمائل 12 (97)، (تحفة الٔاشراف: 1196) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5286
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِصْبَعِهِ الْيُسْرَى".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی آپ کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5286]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کی چمک آپ کی بائیں (چھوٹی) انگلی میں دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 1291) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5287
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ" , وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ.
ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بولے: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی انگلی کو بلند کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
حضرت ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے میں آپ کی چاندی والی انگوٹھی کی چمک اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ (یہ کہتے ہوئے) انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو اٹھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، اللباس 16 (2095)، (تحفة الٔاشراف: 333)، مسند احمد (3/276) (صحیح) (انس رضی الله عنہ سے یمین اور یسار یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں میں انگوٹھی پہنے کا ذکر آیا ہے، جس کے بارے میں احادیث کی صحت کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنے دیکھا اور کبھی بائیں میں، اور بعض اہل علم کے یہاں بائیں میں پہنے والی حدیث راجح اور محفوظ ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الإرواء 3/298، 302، وتراجع الالبانی 159)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ بتار ہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی چھنگلی انگلی میں پہنتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5288
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ:" نَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ , وَالْوُسْطَى".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت اور بیچ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5288]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی ڈالنے“ سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی خلافِ اولیٰ ہے، بہتر یہ ہے کہ ان انگلیوں میں نہ پہنا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5289
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَلْبَسَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ، وَفِي الْوُسْطَى، وَالَّتِي تَلِيهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (شہادت کی) انگلی میں، بیچ کی انگلی اور اس سے لگی ہوئی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5289]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ میں اپنی اس انگلی میں، درمیان والی اور ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی ڈالوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن