سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابُ: ذِكْرِ الرُّخْصَةِ لِلنِّسَاءِ فِي لُبْسِ السِّيَرَاءِ
باب: عورتوں کو ریشمی دھاری والے لباس پہننے کی اجازت۔
حدیث نمبر: 5298
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ریشم کی دھاری والی قمیص پہنے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5298]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو دھاری دار ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس19(3598)، (تحفة الأشراف: 1540) (شاذ) (صحیح نام ’’ام کلثوم“ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ویسے اس روایت کے معنی میں کوئی ضعف نہیں)»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أم كلثوم مكان زينب
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3598) الزهري عنعن. والمحفوظ ’’أم كلثوم‘‘ بدل زينب. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
حدیث نمبر: 5299
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ حَدَّثَنِي:" أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَ سِيَرَاءَ، وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو سیراء دھاری دار ریشمی چادر پہنے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5299]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر اوڑھے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 30 (5842)، سنن ابی داود/اللباس 14 (4058)، (تحفة الٔاشراف: 1533) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5300
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ , فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء چادر تحفے میں آئی، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی، میں نے اسے پہنا، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”سنو، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی“، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں ایک ریشمی دھاری دار حلہ بطور تحفہ بھیجا گیا، آپ نے وہ مجھے بھیج دیا، میں نے اسے پہن لیا۔ (آپ نے مجھے دیکھا تو) میں نے آپ کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے، آپ نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس لیے نہیں دیا تھا کہ تو اسے پہنے۔“ پھر میں نے آپ کے حکم سے اسے اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4043)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد 1/130، 139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم