الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب الصلاة
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
The Book on Salat (Prayer)
61. باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي وَمَعَهُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
حدیث نمبر: 234
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا إسحاق الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته، فاكل منه، ثم قال: " قوموا فلنصل بكم " قال انس: فقمت إلى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بالماء، فقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت عليه انا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا، فصلى بنا ركعتين ثم انصرف. قال ابو عيسى: حديث انس حديث حسن صحيح، والعمل عليه عند اكثر اهل العلم، قالوا: إذا كان مع الإمام رجل وامراة قام الرجل عن يمين الإمام والمراة خلفهما، وقد احتج بعض الناس بهذا الحديث في إجازة الصلاة إذا كان الرجل خلف الصف وحده، وقالوا: إن الصبي لم تكن له صلاة وكان انسا كان خلف النبي صلى الله عليه وسلم وحده في الصف، وليس الامر على ما ذهبوا إليه لان النبي صلى الله عليه وسلم اقامه مع اليتيم خلفه، فلولا ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل لليتيم صلاة لما اقام اليتيم معه ولاقامه عن يمينه، وقد روي عن موسى بن انس، عن انس انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فاقامه عن يمينه، وفي هذا الحديث دلالة انه إنما صلى تطوعا اراد إدخال البركة عليهم.(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: " قُومُوا فَلْنُصَلِّ بِكُمْ " قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِالْمَاءِ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ عَلَيْهِ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا كَانَ مَعَ الْإِمَامِ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ قَامَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ وَالْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا، وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي إِجَازَةِ الصَّلَاةِ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، وَقَالُوا: إِنَّ الصَّبِيَّ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَلَاةٌ وَكَأَنَّ أَنَسًا كَانَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ فِي الصَّفِّ، وَلَيْسَ الْأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبُوا إِلَيْهِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ مَعَ الْيَتِيمِ خَلْفَهُ، فَلَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْيَتِيمِ صَلَاةً لَمَا أَقَامَ الْيَتِيمَ مَعَهُ وَلَأَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ أَنَّهُ إِنَّمَا صَلَّى تَطَوُّعًا أَرَادَ إِدْخَالَ الْبَرَكَةِ عَلَيْهِمْ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ رضی الله عنہا نے کھانا پکایا اور اس کو کھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: اٹھو چلو ہم تمہیں نماز پڑھائیں، انس کہتے ہیں ـ: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کے پاس آیا جو زیادہ استعمال کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی، میں نے اسے پانی سے دھویا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور یتیم نے آپ کے پیچھے اس پر صف لگائی اور دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف پلٹے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد امام کے دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت ان دونوں کے پیچھے۔
۳- بعض لوگوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ جب آدمی صف کے پیچھے تنہا ہو تو اس کی نماز جائز ہے، وہ کہتے ہیں کہ بچے پر نماز تو تھی ہی نہیں گویا عملاً انس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تنہا ہی تھے، لیکن ان کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انس کو اپنے پیچھے یتیم کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم کی نماز کو نماز نہ مانتے تو یتیم کو ان کے ساتھ کھڑا نہ کرتے بلکہ انس کو اپنے دائیں طرف کھڑا کرتے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا، اس حدیث میں دلیل ہے کہ آپ نے نفل نماز پڑھی تھی اور انہیں برکت پہنچانے کا ارادہ کیا تھا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 20 (380)، والأذان 78 (727)، و161 (860)، و164 (871)، و167 (874)، صحیح مسلم/المساجد (658)، سنن ابی داود/ الصلاة 71 (612)، سنن النسائی/المساجد 43 (738)، والإمامة 19 (802)، و62 (870)، (تحفة الأشراف: 197)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 9 (31)، مسند احمد (3/131، 145، 149، 164)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1324) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.