صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ إِذَا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ:
باب: ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا۔
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ:" أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قِيلَ لِهِشَامٍ: فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ قَضَاءٍ"، وَقَالَ مَعْمَرٌ: سَمِعْتُ هِشَامًا: لَا أَدْرِي أَقَضَوْا أَمْ لَا؟.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بادل تھا۔ ہم نے جب افطار کر لیا تو سورج نکل آیا۔ اس پر ہشام (راوی حدیث) سے کہا گیا کہ پھر انہیں اس روزے کی قضاء کا حکم ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ قضاء کے سوا اور چارہ کار ہی کیا تھا؟ اور معمر نے کہا کہ میں نے ہشام سے یوں سنا ”مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے قضاء کی تھی یا نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1959]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دن مطلع ابر آلود تھا، ہم نے روزہ افطار کر لیا، پھر اس کے بعد سورج نکل آیا۔ ہشام سے دریافت کیا گیا: کیا پھر لوگوں کو قضا کا حکم دیا گیا ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس کے بغیر اور کیا چارہ تھا؟ حضرت معمر کہتے ہیں کہ میں نے ہشام کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے روزہ قضا کیا یا نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة