🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب إذا أفطر فى رمضان ثم طلعت الشمس:
باب: ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ:" أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قِيلَ لِهِشَامٍ: فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ قَضَاءٍ"، وَقَالَ مَعْمَرٌ: سَمِعْتُ هِشَامًا: لَا أَدْرِي أَقَضَوْا أَمْ لَا؟.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بادل تھا۔ ہم نے جب افطار کر لیا تو سورج نکل آیا۔ اس پر ہشام (راوی حدیث) سے کہا گیا کہ پھر انہیں اس روزے کی قضاء کا حکم ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ قضاء کے سوا اور چارہ کار ہی کیا تھا؟ اور معمر نے کہا کہ میں نے ہشام سے یوں سنا مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے قضاء کی تھی یا نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1959]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دن مطلع ابر آلود تھا، ہم نے روزہ افطار کر لیا، پھر اس کے بعد سورج نکل آیا۔ ہشام سے دریافت کیا گیا: کیا پھر لوگوں کو قضا کا حکم دیا گیا ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس کے بغیر اور کیا چارہ تھا؟ حضرت معمر کہتے ہیں کہ میں نے ہشام کو یہ کہتے ہوئے سنا: مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے روزہ قضا کیا یا نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1959]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥فاطمة بنت المنذر الأسدية
Newفاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← فاطمة بنت المنذر الأسدية
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1959
أفطرنا على عهد النبي يوم غيم ثم طلعت الشمس
سنن ابن ماجه
1674
أفطرنا على عهد رسول الله في يوم غيم ثم طلعت الشمس
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1674
أفطرنا على عهد رسول الله في يوم غيم ثم طلعت الشمس
صحيح البخاري
1959
أفطرنا على عهد النبي يوم غيم ثم طلعت الشمس
سنن أبي داود
2359
أفطرنا يوما في رمضان في غيم في عهد رسول الله ثم طلعت الشمس
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1959 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1959
حدیث حاشیہ:
اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ ایسی صورت میں قضا لازم ہوگی اور کفارہ نہ ہوگا اور اس کے سوا یہ بھی ضروری ہے کہ جب تک غروب نہ ہو امساک کرے یعنی کچھ کھائے پیے نہیں۔
قسطلانی نے بعض حنابلہ سے یہ نقل کیا کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھ کر کہ رات ہو گئی افطار کرلے پھر معلوم ہوا کہ دن تھا تو اس پر قضا نہیں ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں۔
میں کہتا ہوں حضرت عمر ؓ سے یہ منقول ہے کہ ایسی صورت میں قضا بھی نہیں ہے، اور مجاہد اور حسن سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔
حافظ نے کہا کہ ایک روایت امام احمد ؒ سے بھی ایسی ہی ہے اور ابن خزیمہ نے اسی کو اختیار کیا ہے اور معمر کی تعلیق کو عبد بن حمید نے وصل کیا۔
یہ روایت پہلی روایت کے خلاف ہے اور شاید پہلے ہشام کو اس میں شک رہا ہو پھر یقین ہو گیا ہو کہ انہوں نے قضا کی۔
اور ابواسامہ نے ان کو قضا کا یقین ہوجانے کے بعد روایت کی ہو، اس صورت میں تعارض نہ رہے گا۔
ابن خزیمہ نے کہا ہشام نے جو قضا کرنا بیان کیا اس کی سند ذکر نہیں کی، اس لیے میرے نزدیک قضا نہ ہونے کی ترجیح ہے اور ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر ؓ سے نقل کیا کہ ہم قضا نہیں کرنے کے نہ ہم کو گناہ ہوا اور عبدالرزاق اور سعید بن منصور نے ان سے یہ نقل کیا ہے کہ قضا کرنا چاہئے۔
حافظ نے کہا کہ حاصل کلام یہ ہوا کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔
(وحیدی)
ظاہر حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ قضا لازم ہے واللہ أعلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1959]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1959
حدیث حاشیہ:
:
(1)
اگر روزہ افطار کرنے کے بعد سورج نکل آئے تو اس روزے کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس میں متقدمین کا اختلاف ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس اختلاف کے پیش نظر کوئی فیصلہ نہیں دیا، بلکہ روایت کے بعد حضرت ہشام کے دو مختلف جواب ذکر کیے ہیں۔
ہمارے نزدیک ایسے روزے کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب تک سورج غروب نہ ہو کوئی چیز استعمال نہ کی جائے اور اس کے بعد میں قضا دی جائے، البتہ اس کے ذمے کوئی کفارہ وغیرہ نہیں ہے۔
حضرت عمر ؓ سے اس کے متعلق دو مختلف روایات ہیں:
حضرت خالد بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے بادلوں کے دن رمضان المبارک میں روزہ افطار کیا، بعد میں سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا:
جس نے روزہ افطار کیا ہے وہ بعد میں قضا دے۔
زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا:
اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ہمیں قضا کے طور پر روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 217/4)
امام بیہقی ؒ نے مختلف روایات کے پیش نظر زید بن وہب کی روایت کو غلط قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے اکثریت کی مخالفت کی ہے، پھر انہوں نے حضرت صہیب کی روایت کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے بعد میں قضا دینے کا حکم دیا تھا۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 218/4) (2)
حافظ ابن حجر ؒ نے قضا دینے کی تائید کرتے ہوئے فرمایا ہے:
اگر مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے اور لوگ روزہ نہ رکھیں، بعد میں پتہ چلا کہ چاند نظر آ گیا تھا لیکن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تو انہیں بعد میں اس کی قضا دینی ہو گی، اسی طرح روزہ افطار کرنے کے بعد سورج نظر آنے کی صورت میں بھی قضا دینا ضروری ہے۔
(فتح الباري: 255/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1959]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1674
روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو اس کے حکم کا بیان۔
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1674]
اردو حاشہ:
فائده:
حدیث میں مذکورہ صورت بھول کر کھانے پینے سے مختلف ہے۔
کیونکہ انھوں نے بھول کر نہیں کھایا پیا بلکہ ارادے سے اپنے خیال میں روزہ کھولا تھا۔
اگرچہ غلط فہمی کی بنا پر وقت سے پہلے کھول دیاتھا۔
اس غلط فہمی کی بنا پر وہ گناہ گار تو نہیں ہوئے لیکن روزہ یقیناً ناقص ہوگیا۔
ایسے روزے کی قضا کی بابت علماء میں اختلاف ہے۔
تاہم جمہور علماء کے نزدیک ایسی صورت میں افطار کیے ہوئے روزے کی قضا واجب ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (فتح الباری: 255/4)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1674]

Sahih Bukhari Hadith 1959 in Urdu