🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. باب مِنْهُ
باب: اچھے اور برے حاکم کی پہچان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2264
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِ أُمَرَائِكُمْ وَشِرَارِهِمْ خِيَارُهُمْ؟ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتَدْعُونَ لَهُمْ وَيَدْعُونَ لَكُمْ، وَشِرَارُ أُمَرَائِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، وَمُحَمَّدٌ يُضَعَّفُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اچھے حکمرانوں اور برے حکمرانوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ اچھے حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، تم ان کے لیے دعائیں کرو گے اور وہ تمہارے لیے دعائیں کریں گے، تمہارے برے حکمراں وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو گے اور وہ تم سے نفرت کریں گے تم ان پر لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے صرف محمد بن ابوحمید کی روایت سے جانتے ہیں، اور محمد بن ابوحمید حافظے کے تعلق سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10399) (صحیح) (سند میں محمد بن ابی حمید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: 907)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو عدل و انصاف سے کام لیں گے، ان کے اور تمہارے درمیان محبت قائم ہو گی وہ تمہارے خیرخواہ اور تم ان کے خیرخواہ ہو گے، اور کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو ظلم و زیادتی میں بےمثال ہوں گے، ان میں شر کا پہلو زیادہ غالب ہو گا، اسی لیے تم ان سے اور وہ تم سے بغض رکھیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (907)
قال الشيخ زبير على زئي:(2264) إسناده ضعيف
محمد بن أبى حميد ضعيف (تق:5836) و روي مسلم (1855) عن عوف بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم ويصلون عليكم و تصلون عليهم و شرار أئمتكم الذين تبغضونهم و يبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم . . . إلخ وهو صحيح و الحمد لله

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں