سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3218
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ لَهُ: بَعَثَتْ إِلَيْكَ بِهَا أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا مِنَّا لَكَ قَلِيلٌ، فَقَالَ: " ضَعْهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ فَسَمَّى رِجَالًا "، قَالَ: فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ عَدَدُ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ، قَالَ: وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ "، قَالَ: فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتْ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ "، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ، قَالَ: فَقَالَ لِي: " يَا أَنَسُ، ارْفَعْ "، قَالَ: فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ، قَالَ: وَجَلَسَ مِنْهُمْ طَوَائِفُ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ، فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَاتُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ: " يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ سورة الأحزاب آية 53 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، قَالَ الْجَعْدُ: قَالَ أَنَسٌ: أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ، وَحُجِبْنَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْجَعْدُ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ، وَيُقَالُ: هُوَ ابْنُ دِينَارٍ، وَيُكْنَى أَبَا عُثْمَانَ بَصْرِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَشُعْبَةُ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی (زینب بنت جحش رضی الله عنہا) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس ۱؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر (مجھ سے) کہا: (بیٹے) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو“، پھر فرمایا: ”جاؤ فلاں فلاں، اور فلاں کچھ لوگوں کے نام لیے اور جو بھی تمہیں ملے سب کو میرے پاس بلا کر لے آؤ“، انس کہتے ہیں: جن کے نام آپ نے لیے تھے انہیں اور جو بھی مجھے آتے جاتے ملا اسے بلا لیا، راوی جعد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: کتنے لوگ رہے ہوں گے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس «تَور» پیالہ لے آؤ“۔ انس کہتے ہیں: لوگ اندر آئے یہاں تک کہ صفہ (چبوترہ) اور کمرہ سب بھر گیا، آپ نے فرمایا: ”دس دس افراد کی ٹولی بنا لو اور ہر شخص اپنے قریب سے کھائے“، لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا، ایک ٹولی (کھا کر) باہر جاتی اور دوسری ٹولی (کھانے کے لیے) اندر آ جاتی اس طرح سبھی نے کھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”انس: اب (برتن) اٹھا لو“۔ میں نے (پیالہ) اٹھا لیا، مگر (صحیح صحیح) بتا نہ پاؤں گا کہ جب میں نے پیالہ لا کر رکھا تھا تب اس میں حیس زیادہ تھا یا جب اٹھایا تھا تب؟ کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ (انہوں نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہیں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے، آپ وہاں سے اٹھ کر اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے گئے اور انہیں سلام کیا (مزاج پرسی کی) اور پھر لوٹ آئے، جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ لوٹ آئے ہیں تو انہیں احساس و گمان ہوا کہ وہ لوگ آپ کے لیے باعث اذیت بن گئے ہیں، تو وہ لوگ تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھے اور سب کے سب باہر نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے دروازہ کا پردہ گرا دیا اور خود اندر چلے گئے، میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر یہ آیتیں اتریں پھر آپ نے باہر آ کر لوگوں کو یہ آیتیں «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبي» ”اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو، بلکہ جب بلایا جائے تب جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے“ (الاحزاب: ۵۳)، آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ میں ان آیات سے سب سے پہلا واقف ہونے والا ہوں، اور اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں پردہ کرنے لگیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ (قوی) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3218]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ (قوی) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 65 (تعلیقا) صحیح مسلم/النکاح 15 (1421/94)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 513) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حیس ایک قسم کا کھانا ہے جو کھجور، گھی اور ستو سے تیار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3219
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، فَأَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ قَوْمًا إِلَى الطَّعَامِ، فَلَمَّا أَكَلُوا وَخَرَجُوا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْطَلِقًا قِبَلَ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ فَانْصَرَفَ رَاجِعًا، فَقَامَ الرَّجُلَانِ فَخَرَجَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53 "، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَرَوَى ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کے ساتھ شادی والی رات گزاری، پھر آپ نے مجھے کچھ لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لیے بھیجا۔ جب لوگ کھا پی کر چلے گئے، تو آپ اٹھے، عائشہ رضی الله عنہا کے گھر کا رخ کیا پھر آپ کی نظر دو بیٹھے ہوئے آدمیوں پر پڑی۔ تو آپ (فوراً) پلٹ پڑے (انہیں اس کا احساس ہو گیا) وہ دونوں اٹھے اور وہاں سے نکل گئے۔ اسی موقع پر اللہ عزوجل نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» نازل فرمائی، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3219]
۱- بیان کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ثابت نے انس کے واسطہ سے یہ حدیث پوری کی پوری بیان کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 69 (5170)، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 257) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ قصہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3220
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عُلِّمْتُمْ "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ، وَيُقَالُ: ابْنُ جَارِيَةَ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ (درود) بھیجیں، راوی کہتے ہیں: آپ (یہ سن کر) خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم سوچنے لگے کہ انہوں نے نہ پوچھا ہوتا تو ہی ٹھیک تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اور سلام تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تم (التحیات میں) جانتے ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، ابوحمید، کعب بن عجرہ اور طلحہ بن عبیداللہ اور ابو سعید خدری اور زید بن خارجہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور زید کو ابن جاریہ اور ابن بریدہ بھی کہا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3220]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، ابوحمید، کعب بن عجرہ اور طلحہ بن عبیداللہ اور ابو سعید خدری اور زید بن خارجہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور زید کو ابن جاریہ اور ابن بریدہ بھی کہا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 17 (405)، سنن ابی داود/ الصلاة 183 (980)، سنن النسائی/السھو 49 (1286) (تحفة الأشراف: 10007)، موطا امام مالک/ صلاة السفر 22 (67)، و مسند احمد (5/274)، وسنن الدارمی/الصلاة 85 (1382) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما» (الأحزاب: ۵۶) کے تفسیر میں ذکر کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة، صحيح أبي داود (901)
حدیث نمبر: 3221
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ، وَخِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سَتِيرًا مَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ، فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ "، فَقَالُوا: مَا يَسْتَتِرُ هَذَا السِّتْرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ، إِمَّا بَرَصٌ، وَإِمَّا أُدْرَةٌ، وَإِمَّا آفَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا، وَإِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام خَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى حَجَرٍ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا، وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ فَطَلَبَ الْحَجَرَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ النَّاسِ خَلْقًا، وَأَبْرَأَهُ مِمَّا كَانُوا يَقُولُونَ، قَالَ: وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ عَصَاهُ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا سورة الأحزاب آية 69 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام باحیاء، پردہ پوش انسان تھے، ان کے بدن کا کوئی حصہ ان کے شرما جانے کے ڈر سے دیکھا نہ جا سکتا تھا، مگر انہیں تکلیف پہنچائی جس کسی بھی اسرائیلی نے تکلیف پہنچائی، ان لوگوں نے کہا: یہ شخص (اتنی زبردست) ستر پوشی محض اس وجہ سے کر رہا ہے کہ اسے کوئی جلدی بیماری ہے: یا تو اسے برص ہے، یا اس کے خصیے بڑھ گئے ہیں، یا اسے کوئی اور بیماری لاحق ہے۔ اللہ نے چاہا کہ ان پر جو تہمت اور جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان سے انہیں بری کر دے۔ (تو ہوا یوں کہ) موسیٰ علیہ السلام ایک دن تنہا تھے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ کر نہانے لگے، جب نہا چکے اور اپنے کپڑے لینے کے لیے آگے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی اٹھائی، پتھر کو بلانے اور کہنے لگے «ثوبي حجر ثوبي حجر» ”پتھر: میرا کپڑا دے، پتھر! میرا کپڑا دے“ اور یہ کہتے ہوئے پیچھے پیچھے دوڑتے رہے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت (ایک گروہ) کے پاس جا پہنچا، دوسروں نے انہیں (مادر زاد) ننگا اپنی خلقت و بناوٹ میں لوگوں سے اچھا دیکھا۔ اللہ نے انہیں ان تمام عیبوں اور خرابیوں سے پاک و صاف دکھا دیا جو عیب وہ ان میں بتا رہے تھے“۔ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ پتھر رک گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، پھر اپنی لاٹھی سے پتھر کو پیٹنے لگے۔ تو قسم اللہ کی پتھر پر لاٹھی کی مار سے تین، چار یا پانچ چوٹ کے نشان تھے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» ”اے ایمان لانے والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے جھوٹے الزامات سے تکلیف پہنچائی، تو اللہ نے انہیں اس تہمت سے بری قرار دیا، وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت و مرتبت والا تھا“ (الاحزاب: ۶۹)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور اس میں ایک حدیث انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3221]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور اس میں ایک حدیث انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 28 (3404)، وتفسیر سورة الأحزاب 11 (4799) (تحفة الأشراف: 12242، و12302، و14480) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح