🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

97. بَابُ بَيْعِ الأَرْضِ وَالدُّورِ وَالْعُرُوضِ مُشَاعًا غَيْرَ مَقْسُومٍ:
باب: زمین، مکان، اسباب کا حصہ اگر تقسیم نہ ہوا ہو تو اس کا بیچنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ".
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مال میں شفعہ کا حق قائم رکھا جو تقسیم نہ ہوا ہو، لیکن جب اس کی حدود قائم ہو گئی ہوں اور راستہ بھی پھیر دیا گیا ہو تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2214]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق شفعہ ہر اس مال میں قائم رکھا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو، جب حدود قائم ہو جائیں اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں ہے۔ عبدالواحد کی بیان کردہ روایت میں ہے کہ حق شفعہ ہر غیر منقسم چیز میں ہے۔ معمر سے روایت کرنے میں ہشام نے عبدالواحد کی متابعت کی ہے۔ عبدالرزاق نے بایں الفاظ اس روایت کو بیان کیا ہے کہ حق شفعہ ہر اس مال میں ہے (جو تقسیم شدہ نہ ہو)۔ اس روایت کو عبدالرحمان بن اسحاق نے بھی امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2215
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بِهَذَا، وَقَالَ: فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، تَابَعَهُ هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فِي كُلِّ مَالٍ، رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے مسدد نے اور ان سے عبدالواحد نے اسی طرح بیان کیا، اور کہا کہ ہر اس چیز میں (شفعہ ہے) جو تقسیم نہ ہوئی ہو۔ اس کی متابعت ہشام نے معمر کے واسطہ سے کی ہے اور عبدالرزاق نے یہ لفظ کہے کہ ہر مال میں اس کی روایت عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2215]