🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

پانچ نمازوں کی ادائیگی کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3451 ترقیم فقہی: -- 494
- (أبشرُوا، أبشرُوا، إنه من صلى الصَّلوات الخمسَ، واجْتنبَ الكبائر، دخلَ من أيِّ أبوابِ الجنّة شاءَ:
مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا: میں قسم اٹھاتا ہوں، میں قسم اٹھاتا ہوں، میں قسم اٹھاتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، خوش ہو جاؤ، جس آدمی نے پانچ نمازیں ادا کیں اور کبیرہ گناہوں سے گریز کیا، وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا۔ مطلب نے کہا: ایک آدمی نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کلمات کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں (کبیرہ گناہ یہ ہیں:) والدین کی نافرمانی کرنا، اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی کو (بلاوجہ) قتل کرنا، پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا، یتیم کا مال کھا جانا، میدان جنگ سے فرار اختیار کرنا اور سود کھانا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 494]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3451

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 842 ترقیم فقہی: -- 495
-" أتاني جبريل عليه السلام من عند الله تبارك وتعالى، فقال: يا محمد إن الله عز وجل قال لك: إني قد فرضت على أمتك خمس صلوات، من وافاهن على وضوئهن ومواقيتهن وسجودهن، فإن له عندي بهن عهد أن أدخله بهن الجنة ومن لقيني قد أنقص من ذلك شيئا ـ أو كلمة تشبهها ـ فليس له عندي عهد إن شئت عذبته وإن شئت رحمته".
ابوادریس خولانی کہتے ہیں: میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھا تھا، ان میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے۔ وہ نماز وتر (کے حکم پر) بحث کرنے لگے، بعض نے کہا: کہ نماز وتر واجب ہے جبکہ بعض نے اسے سنت قرار دیا۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے (اپنی رائے پیش کرتے ہوئے) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل آئے اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے: میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو آدمی وضو، اوقات اور سجود (وغیرہ) سمیت ان کا پورا حق ادا کرے گا، ان سے میرا معاہدہ ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو آدمی ان کی ادائیگی میں کمی کر کے مجھے ملے گا تو اس کے لیے میرے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، چاہوں تو عذاب دوں اور چاہوں تو رحم کر دوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 495]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 842

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 867 ترقیم فقہی: -- 496
-" اتقوا الله ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وأدوا زكاة أموالكم وأطيعوا ذا أمركم، تدخلوا جنة ربكم".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرما رہے تھے: اپنے رب سے ڈر جاؤ، پانچ نمازیں ادا کرو، ماہ (رمضان) کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو اور اپنے امرا کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 496]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 867

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں