سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نماز عصر کے بعد دو رکعت سنتیں
ترقیم الباني: 3174 ترقیم فقہی: -- 645
- (كان لا يدعُ ركعتينِ قبل الفجرِ، وركعتينِ بعدالعصرِ).
ابراہیم بن محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہیں کہا گیا (کہ یہ نماز کیوں پڑھتے ہو)؟ انھوں نے کہا: اگر میں یہ دو رکعتیں صرف اس لیے پڑھتا کہ میں نے مسروق کو پڑھتے دیکھا تو یہ بھی قابل اعتماد بات تھی۔ لیکن میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس کی بابت سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا ترک نہیں کرتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 645]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3174
ترقیم الباني: 200 ترقیم فقہی: -- 646
-" نهى عن الصلاة بعد العصر إلا والشمس مرتفعة".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےعصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ سورج بلند ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 646]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 200
ترقیم الباني: 2549 ترقیم فقہی: -- 647
-" أحسن ابن الخطاب".
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی، (سلام کے بعد) ایک آدمی نے فوراً نماز پڑھنا شروع کر دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ابن خطاب نے اچھا کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 647]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2549
ترقیم الباني: 3173 ترقیم فقہی: -- 648
- (أحسنَ (وفي رواية: صدق) ابنُ الخطابِ)
عبداللہ بن رباح، ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی، ایک آدمی مزید نماز پڑھنےکے لیے فوراً کھڑا ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور اس کی چادر یا کپڑے کو پکڑ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن خطاب نے اچھا کیا۔“ اور ایک روایت میں ہے:”(ابن خطاب نے) سچ کہا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 648]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3173