صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ مَنِ اسْتَعَارَ مِنَ النَّاسِ الْفَرَسَ:
باب: جس نے کسی سے گھوڑا عاریتاً لیا۔
حدیث نمبر: 2627
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ،" فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا قتادہ سے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نے بیان کیا کہ مدینے پر (دشمن کے حملے کا) خوف تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے ایک گھوڑا جس کا نام مندوب تھا مستعار لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے (صحابہ بھی ساتھ تھے) پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا، ہمیں تو کوئی خطرہ کی چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا سمندر کی طرح (تیز دوڑتا) پایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2627]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ مدینہ طیبہ میں دشمن کا خوف سا پیدا ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے ایک گھوڑا مستعار لیا جسے مندوب کہا جاتا تھا۔ آپ اس پر سوار ہوئے۔ جب واپس تشریف لائے تو فرمایا: ”کوئی گڑبڑ نہیں ہے، یہ گھوڑا تو سمندر کی موج ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْهِبَةِ وَفَضْلِهَا وَالتَّحْرِيضِ عَلَيْهَا/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة