🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ إِذَا شَهِدَ شَاهِدٌ أَوْ شُهُودٌ بِشَيْءٍ فَقَالَ آخَرُونَ مَا عَلِمْنَا ذَلِكَ. يُحْكَمُ بِقَوْلِ مَنْ شَهِدَ:
باب: جب ایک یا کئی گواہ کسی معاملے کے اثبات میں گواہی دیں اور دوسرے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں تو فیصلہ اسی کے قول کے مطابق ہو گا جس نے اثبات میں گواہی دی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2640-2
وَقَالَ آخَرُونَ: مَا عَلِمْنَا ذَلِكَ يُحْكَمُ بِقَوْلِ مَنْ شَهِدَ.
اور دوسرے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں تو فیصلہ اسی کے قول کے مطابق ہو گا جس نے اثبات میں گواہی دی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2640-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2640
قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: هَذَا كَمَا أَخْبَرَ بِلَالٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ، وَقَالَ الْفَضْلُ: لَمْ يُصَلِّ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِشَهَادَةِ بِلَالٍ، كَذَلِكَ إِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ أَنَّ لِفُلَانٍ عَلَى فُلَانٍ أَلْفَ دِرْهَمٍ، وَشَهِدَ آخَرَانِ بِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ يُقْضَى بِالزِّيَادَةِ.
حمیدی نے کہا کہ یہ ایسا ہے جیسے بلال رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے اور فضل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کعبہ کے اندر) نماز نہیں پڑھی۔ تو تمام لوگوں نے بلال رضی اللہ عنہ کی گواہی کو تسلیم کر لیا۔ اسی طرح اگر دو گواہوں نے اس کی گواہی دی کہ فلاں شخص کے فلاں پر ایک ہزار درہم ہیں اور دوسرے دو گواہوں نے گواہی دی کے ڈیڑھ ہزار درہم ہیں تو فیصلہ زیادہ کی گواہی دینے والوں کے قول کے مطابق ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2640]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي، فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ يَسْأَلُهُمْ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا، فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَفَارَقَهَا وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ".
ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی اور انہیں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ ایک خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ عقبہ کو بھی میں نے دودھ پلایا ہے اور اسے بھی جس سے اس نے شادی کی ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ آپ نے مجھے دودھ پلایا ہے اور آپ نے مجھے پہلے اس سلسلے میں کچھ بتایا بھی نہیں تھا۔ پھر انہوں نے آل ابواہاب کے یہاں آدمی بھیجا کہ ان سے اس کے متعلق پوچھے۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے دودھ پلایا ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ کہا جا چکا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کرا دی اور اس کا نکاح دوسرے شخص سے کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2640]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی دختر سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میں نے عقبہ اور اس کی منکوحہ (دونوں) کو دودھ پلایا ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے (اس سے پہلے) مجھے خبر دی ہے، پھر انہوں نے ابو اہاب کے خاندان کی طرف صورت حال کی وضاحت کے لیے پیغام بھیجا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ اس عورت نے ہماری بیٹی کو دودھ پلایا ہو۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سوار ہو کر مدینہ طیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم اسے کیسے رکھ سکتے ہو، جبکہ (رضاعت کی) بات کہی جا چکی ہے۔ چنانچہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس نے کسی اور سے نکاح کر لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں