صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ الشُّهَدَاءِ الْعُدُولِ:
باب: گواہ عادل معتبر ہونے ضروری ہیں۔
حدیث نمبر: Q2641
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ سورة الطلاق آية 2 و مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ سورة البقرة آية 282.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الطلاق میں) فرمایا «وأشهدوا ذوى عدل منكم» ”اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ اور (اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا) «ممن ترضون من الشهداء» ”گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2641]
حدیث نمبر: 2641
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، قَالَ:سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالْوَحْيِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الْآنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا أَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاهُ وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ اللَّهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ إِنَّ سَرِيرَتَهُ حَسَنَةٌ".
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے کہ اس کا باطن اچھا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2641]
حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگوں سے وحی کی بنیاد پر باز پرس ہوتی تھی۔ اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ لہٰذا اب ہم تمہارا مؤاخذہ تمہارے ظاہری اعمال پر کریں گے۔ جو کوئی بظاہر اچھا کام کرے گا، ہم اس پر اعتماد کریں گے اور اپنا ساتھی بنائیں گے۔ ہمیں اس کی دل کی بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی کیونکہ دل کی باتوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرنے والا ہے۔ اور جس نے بظاہر کوئی برا کام کیا تو ہم اس پر نہ بھروسا کریں گے اور نہ اسے سچا ہی قرار دیں گے، اگرچہ وہ دعویٰ کرے کہ اس کا باطن عمدہ اور اچھا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2641]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة