صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا لاَ يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ:
باب: جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2723
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَزِيدَنَّ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبَنَّ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ إِنَاءَهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت نہ بیچے۔ کوئی شخص نجش نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت پر بھاؤ بڑھائے۔ نہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے پیغام نکاح کی موجودگی میں اپنا پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت (کسی مرد سے) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے (جو اس مرد کے نکاح میں ہو) تاکہ اس طرح اس کا حصہ بھی خود لے لے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2723]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت نہ فروخت کرے، نہ کوئی دوسرے کو دھوکا ہی دے، اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت پر بھاؤ زیادہ نہ کرے (جبکہ خریدنے کی نیت نہ ہو) اور نہ کوئی اپنے بھائی کی منگنی پر اس عورت کو اپنا پیغام نکاح ہی بھیجے اور نہ کوئی عورت کسی مرد سے اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ ہی کرے تاکہ سب کچھ اپنے برتن میں انڈیل لے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2723]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة