🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

98. بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ:
باب: مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2931
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مشرکین کو) یہ بددعا دی کہ اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہم کو صلوٰۃ وسطیٰ (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا) جب سورج غروب ہو چکا تھا اور عصر کی نماز قضاء ہو گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2931]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ ان (قبائل مشرکین) کے گھر اور قبریں آگ سے بھر دے، انہوں نے ہمیں «صَلَاةِ الْوُسْطَىٰ» یعنی نماز عصر سے روکا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2931]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2932
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَدْعُو فِي الْقُنُوتِ اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن ذکوان نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (صبح کی) دعائے قنوت میں (دوسری رکعت کے رکوع کے بعد) یہ دعا پڑھتے تھے «‏‏‏‏اللهم أنج سلمة بن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج الوليد بن الوليد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم اشدد وطأتك على مضر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم سنين كسني يوسف» اے اللہ سلمہ بن ہشام کو نجات دے، ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! تمام کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ (جو مکہ میں مشرکین کی سختیاں جھیل رہے ہیں) اے اللہ! مضر پر اپنا سخت عذاب نازل کر۔ اے اللہ ایسا قحط نازل کر جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2932]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قنوت کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! تمام کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنا سخت عذاب نازل فرما۔ اے اللہ! ایسا قحط نازل فرما جیسا حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں پڑا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2933
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے (قیامت کے دن) حساب بڑی سرعت سے لینے والے، اے اللہ! مشرکوں اور کفار کی جماعتوں کو (جو مسلمانوں کا استیصال کرنے آئی ہیں) شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2933]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن مشرکین کے خلاف یہ بد دعا کی تھی: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» اے اللہ! کتاب کو نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، اے اللہ! ان (کافروں کے) لشکروں کو شکست دے۔ انھیں ہزیمت سے دو چار کر دے۔ اور ان کے پاؤں (میدان سے) اکھاڑ دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2933]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:" أَبُو جَهْلٍ وَنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَنُحِرَتْ جَزُورٌ بِنَاحِيَةِ مَكَّةَ، فَأَرْسَلُوا فَجَاءُوا مِنْ سَلَاهَا وَطَرَحُوهُ عَلَيْهِ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَلْقَتْهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ لِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ فِي قَلِيبِ بَدْرٍ قَتْلَى، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَنَسِيتُ السَّابِعَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَقَالَ: يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، وَقَالَ: شُعْبَةُ: أُمَيَّةُ، أَوْ أُبَيٌّ، وَالصَّحِيحُ: أُمَيَّةُ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ہم سے سفیان ثوری نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل اور قریش کے بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر کون ان پر ڈالے گا؟ مکہ کے کنارے ایک اونٹ ذبح ہوا تھا (اور اسی کی اوجھڑی لانے کے واسطے) ان سب نے اپنے آدمی بھیجے اور وہ اس اونٹ کی اوجھڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر (نماز پڑھتے ہوئے) ڈال دیا۔ اس کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے اس گندگی کو ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ بددعا کی «اللهم عليك بقريش،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم عليك بقريش،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم عليك بقريش ‏"‏‏.‏ لأبي جهل بن هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعتبة بن ربيعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وشيبة بن ربيعة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والوليد بن عتبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأبى بن خلف،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعقبة بن أبي معيط‏.‏» اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ، ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سب کو پکڑ لے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا چنانچہ میں نے ان سب کو جنگ بدر میں بدر کے کنوئیں میں دیکھا کہ سب کو قتل کر کے اس میں ڈال دیا گیا تھا۔ ابواسحاق نے کہا کہ میں ساتویں شخص کا (جس کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی تھی نام) بھول گیا اور یوسف بن ابی اسحاق نے کہا کہ ان سے ابواسحاق نے (سفیان کی روایت میں ابی بن خلف کی بجائے) امیہ بن خلف بیان کیا اور شعبہ نے کہا کہ امیہ یا ابی (شک کے ساتھ ہے) لیکن صحیح امیہ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2934]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل اور قریش کے چند لوگوں نے مشورہ کیا (کہ آپ کو تنگ کیا جائے) چنانچہ مکہ سے باہر ایک اونٹنی ذبح کی گئی تھی، انہوں نے اپنے آدمی بھیجے وہ اس کی وہ جھلی اٹھا لائے جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دیا۔ اس کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، انہوں نے اس (جھلی) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ کر کے دور پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» اے اللہ! قریش کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اے اللہ! قریش کو پکڑ لے۔ اے اللہ! قریش کو اپنی گرفت میں لے لے۔ ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کے لیے بددعا فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کو بدر کے گندے کنویں میں مقتول دیکھا۔ (راویِ حدیث) ابو اسحاق نے کہا: میں ساتویں شخص کا نام بھول گیا۔ یوسف بن ابو اسحاق نے ابو اسحاق کے حوالے سے بتایا کہ وہ امیہ بن خلف تھا۔ اور شعبہ نے کہا: وہ امیہ یا ابی ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ امیہ بن خلف تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2935
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ فَلَعَنْتُهُمْ، فَقَالَ:" مَا لَكِ"، قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا، قَالَ:" فَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بعض یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا «السام عليك‏.‏» (تم پر موت آئے) میں نے ان پر لعنت بھیجی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کیا انہوں نے ابھی جو کہا تھا آپ نے نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اور تم نے نہیں سنا کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا «وعليكم» یعنی تم پر بھی وہی آئے (یعنی میں نے کوئی برا لفظ زبان سے نہیں نکالا صرف ان کی بات ان ہی پر لوٹا دی)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ پر موت آئے۔ میں نے یہ سن کر ان پر لعنت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے وہ نہیں سنا جو میں نے کہا ہے؟ کہ تم پر بھی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں