صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. بَابُ مُبَادَرَةِ الإِمَامِ عِنْدَ الْفَزَعِ:
باب: خوف اور دہشت کے وقت (حالات معلوم کرنے کے لیے) امام کا آگے بڑھنا۔
حدیث نمبر: 2968
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ:" مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک دفعہ کچھ دہشت پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر (حالات معلوم کرنے کے لیے سب سے آگے تھے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو کوئی بات نہیں دیکھی۔ البتہ اس گھوڑے کو ہم نے دوڑنے میں دریا کی روانی جیسا تیز پایا ہے (باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2968]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ مدینہ طیبہ میں خوف و ہراس پھیلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر خود پیش قدمی کی اور واپس آکر فرمایا: ”ہم نے تو وہاں کچھ نہیں دیکھا، البتہ اس گھوڑے کو دریا جیسا پایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2968]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة