🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ إِذَا ذَكَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَنَّهُ جُنُبٌ يَخْرُجُ كَمَا هُوَ وَلاَ يَتَيَمَّمُ:
باب: جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قياما، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ"، تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی زہری کے واسطے سے، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں، لوگ کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ عثمان بن عمر سے اس روایت کی متابعت کی ہے عبدالاعلیٰ نے معمر سے اور وہ زہری سے۔ اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 275]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور کھڑے ہو کر صفیں بھی سیدھی کر لی گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جب آپ مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں، اس وقت آپ نے ہم سے فرمایا: اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر آپ واپس چلے گئے، غسل فرمایا اور دوبارہ مسجد میں تشریف لائے تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا، چنانچہ آپ نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ عبدالاعلیٰ نے بواسطہ معمر، زہری سے عثمان بن عمر کی متابعت کی ہے اور اوزاعی نے بھی زہری سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں