صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ وَغَيْرَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ وَنَحْوِهِ:
باب: تالیف قلوب کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا۔
حدیث نمبر: 3152
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلْيَهُودِ وَلِلرَّسُولِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُقِرُّكُمْ عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وأَرِيحَا".
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر نے یہود و نصاریٰ کو سر زمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔ لیکن پھر یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں۔ وہ (کھیتوں اور باغوں میں) کام کیا کریں گے۔ اور آدھی پیداوار لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں (مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3152]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہود و نصاریٰ کو ارضِ حجاز سے جلاوطن کردیا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین پر غلبہ حاصل کیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ فرمایا، چونکہ وہ زمین یہودیوں کی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر غلبہ پالیا تو وہ زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل اسلام کی ہوگئی، تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ انہیں وہاں اس شرط پر رہنے دیں کہ وہ زمین میں کام کریں گے اور انہیں پیداوار سے نصف دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! جب تک ہم چاہیں گے، اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔“ چنانچہ یہ لوگ وہاں رہے یہاں تک کہ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دورِ خلافت میں تیماء اور اریحاء کی طرف بے دخل (جلاوطن) کردیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3152]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة