🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ:
باب: معاہدہ کرنے کے بعد دغا بازی کرنے والے پر گناہ؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3178
وَقَوْلِهِ: {الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لاَ يَتَّقُونَ}.
‏‏‏‏ اور سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد «الذين عاهدت منهم ثم ينقضون عهدهم في كل مرة وهم لا يتقون‏» وہ لوگ (یہود) آپ جن سے معاہدہ کرتے ہیں، اور پھر ہر مرتبہ وہ دغا بازی کرتے ہیں، اور وہ باز نہیں آتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: Q3178]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3178
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعُ خِلَالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَنَّ مُنَافِقًا خَالِصًا مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ چاروں کسی ایک شخص میں جمع ہو جائیں تو وہ پکا منافق ہے۔ وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے، تو وعدہ خلافی کرے، اور جب معاہدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔ اور جب کسی سے لڑے تو گالی گلوچ پر اتر آئے اور اگر کسی شخص کے اندر ان چاروں عادتوں میں سے ایک ہی عادت ہے، تو اس کے اندر نفاق کی ایک عادت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3178]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہوتا ہے: وہ جب بھی بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے، جب عہد و پیمان کرے تو اسے توڑ دے اور جب جھگڑا کرے تو فسق و فجور پر اتر آئے۔ اور جس میں ان خصلتوں میں سے کوئی خصلت پائی جائے گی، جب تک اسے چھوڑے گا نہیں یہ نفاق کی خصلت اس میں باقی رہے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، انہیں ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں (کدیٰ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں (دین میں) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔ معمولی سے معمولی مسلمان (عورت یا غلام) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3179]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن لکھا اور جو کچھ اس صحیفے میں درج ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ جبل عائر سے فلاں پہاڑی تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کسی بدعت کو رواج دیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی پھٹکار ہے۔ اس کی نہ تو کوئی فرض اور نہ نفل عبادت قبول ہوگی۔ تمام مسلمان کسی کو پناہ دینے میں برابر ہیں، اس کے لیے کوئی کم تر آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے، لہذا جس شخص نے بھی کسی مسلمان سے بد عہدی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور جس نے اپنے آقاؤں کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا آقا ظاہر کیا اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کی بھی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
قَالَ أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ، قَالُوا: عَمَّ ذَاكَ، قَالَ: تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ".
ابوموسیٰ (محمد بن مثنیٰ) نے بیان کیا کہ ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سعید بن عمرو نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب (جزیہ اور خراج میں سے) نہ تمہیں درہم ملے گا اور نہ دینار! اس پر کسی نے کہا۔ کہ جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کیسے سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو گا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے۔ یہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا، جب کہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد (اسلامی حکومت غیر مسلموں سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے بارے میں) توڑا جانے لگے، تو اللہ تعالیٰ بھی ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا۔ اور وہ جزیہ دینا بند کر دیں گے (بلکہ لڑنے کو مستعد ہوں گے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3180]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم جزیے کے طور پر دینار حاصل کر سکو گے نہ درہم؟ ان سے دریافت کیا گیا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کیا خیال کرتے ہو کہ ایسا کس طرح ہوگا؟ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! یہ بات میں صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ لوگوں نے پوچھا: ایسا کس وجہ سے ہوگا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے کو توڑ دیا جائے گا، یعنی مسلمان دغا بازی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان ذمیوں کے دل سخت کر دے گا اور جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے وہ جزیے کے طور پر نہیں دیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں