🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ:
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3310
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ حَائِطًا لَهُ فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ، فَقَالَ: انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ فَنَظَرُوا، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابویونس قشیری (حاتم بن ابی صغیرہ) نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی، آپ نے فرمایا کہ دیکھو، وہ سانپ کہاں ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا (اور وہ مل گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3310]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سانپوں کو قتل کیا کرتے تھے، پھر منع کرنے لگے اور کہا: (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دیوار گرائی تو اس میں سانپ کی کینچلی ملی تو آپ نے فرمایا: دیکھو سانپ کہاں ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا تو آپ نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ اس لیے میں انہیں مارا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
فَلَقِيتُ أَبَا لُبَابَةَفَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقْتُلُوا الْجِنَّانَ إِلَّا كُلَّ أَبْتَرَ ذِي طُفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يُسْقِطُ الْوَلَدَ وَيُذْهِبُ الْبَصَرَ فَاقْتُلُوهُ".
پھر میری ملاقات ایک دن ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مار ڈالو، کیونکہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3311]
لیکن اس کے بعد میں جب حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید سانپوں کو مت مارو، ان کے علاوہ ہر دم کٹا اور دو دھاری والا سانپ مار ڈالو کیونکہ وہ حمل گرا دیتا ہے اور بینائی کو ختم کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3312
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3312]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سانپوں کو مارا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
فَحَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ عَنْهَا".
پھر ان سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے پتلے یا سفید سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے مارنا چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3313]
انھیں حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو وہ ان کے قتل کرنے سے رُک گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں