🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال:
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
فَحَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ عَنْهَا".
پھر ان سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے پتلے یا سفید سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے مارنا چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3313]
انھیں حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے تو وہ ان کے قتل کرنے سے رُک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو لبابة الأنصاري، أبو لبابةصحابي
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3313
نهى عن قتل جنان البيوت فأمسك عنها
صحيح مسلم
5830
عن قتل الجنان
صحيح مسلم
5833
عن قتل الجنان التي تكون في البيوت إلا الأبتر وذا الطفيتين فإنهما اللذان يخطفان البصر ويتتبعان ما في بطون النساء
صحيح مسلم
5828
عن قتل الجنان التي في البيوت
صحيح مسلم
5831
عن قتل الجنان التي في البيوت
صحيح مسلم
5829
عن قتل جنان البيوت فأمسك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3313 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3313
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒنے ابھی پیچھے آیت شریفہ ﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾ (البقرہ: 164)
کے ذیل باب منعقد فرمایا تھا۔
ان جملہ احادیث کا تعلق اسی باب کے ساتھ ہے۔
درمیان میں بکری کا ضمنی طور پر ذکر آگیا تھا۔
اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے لیے الگ باب باندھنا مناسب جانا۔
پھر بکری کی احادیث کے بعد باب زیر آیت ﴿وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ ﴾ (البقرہ: 164)
کے ذیل ان جملہ احادیث کو لائے جن میں حیوانات کی مختلف قسموں کا ذکر ہوا ہے۔
فتدبر وفقك اللہ
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3313]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3313
حدیث حاشیہ:

ان روایات میں مختلف سانپوں کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے انھیں بیان کیا ہے۔

سلخ کے معنی وہ کینچلی ہے جو سانپ اتارپھینکتا ہے۔
وہ ملائم کاغذ کی طرح ہوتی ہے۔
الجان ان سانپوں کو کہا جاتا ہے جو گھروں میں رہتے ہیں اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔
ان کے متعلق تفصیل ہم پہلے ذکر کرآئے ہیں۔

سابقہ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ دودھاری اور دم کٹے سانپوں کی دوقسمیں ہیں جبکہ حدیث 3310۔
سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ہی قسم ہے کیونکہ ان کے درمیان حرف عطف نہیں۔
ہمارے رجحان کے مطابق سانپوں کے متعلق یہ دووصف کبھی تو ایک ہی سانپ میں جمع ہوتے ہیں اور کبھی علیحدہ علیحدہ دو سانپوں میں پائے جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہردوقسموں کے لیے ہے۔
اور واؤعطف کبھی کبھی دووصف کو بھی جمع کرتی ہے، اس بنا پر حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس سانپ کو مارو جو دُم کٹا اور دودھاری ہو۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3313]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5828
نافع سے روایت ہے کہ ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے گفتگو کی کہ ان کے لیے اپنے گھر میں دروازہ کھول دیں، اس سے وہ مسجد کے قریب ہو جائیں گے تو بچوں نے وہاں ایک سانپ کی کنج یا کینچلی پائی، اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اس کو تلاش کر کے قتل کر دو تو ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5828]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
جنان:
جان کی جمع ہے،
سفید اور باریک یا دبلا پتلا سانپ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5828]

Sahih Bukhari Hadith 3313 in Urdu