صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ مَنَاقِبُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل۔
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا , وَجَعْفَرًا , وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ:" أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ".
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم کو زید (رضی اللہ عنہ) لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3757]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر آنے سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مطلع کر دیا کہ یہ حضرات شہید ہو چکے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(مسلمانوں کے لشکر کا) جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے پکڑا اور وہ شہید ہو گئے، پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے پکڑا وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں میں لیا وہ بھی شہید ہو گئے،“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، ”حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے اپنے ہاتھ میں جھنڈا لیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح سے ہمکنار کیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة